خطبات محمود (جلد 13) — Page 394
خطبات محمود موسم (47 تمام مخلوق ایک دو سرے سے وابستہ ہے (فرموده ۱۸- مارچ ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر طاقتیں دے کر بھیجا ہے کہ ان کا شکریہ ادا کر نا تو بڑی بات ہے۔اب تک انسان ان کا اندازہ بھی نہیں لگا سکا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات جس رنگ میں اور جہاں بھی دنیا میں ظاہر ہوں وہ در حقیقت دنیا کے ہر شخص کے ساتھ تعلق رکھتی اور اس کے فائدہ کا موجب ہوتی ہیں۔ہزاروں لاکھوں میل پر ایک چھوٹی سی لکھی یا چیونٹی یا کیڑا خواہ وہ ہوائی ہی کیوں نہ ہو اگر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت سے فائدہ اٹھاتا ہے تو ساتھ ہی اس کا فائدہ ایک دوسرے انسان کو جو ہزاروں میل پر اور بظاہر اس سے بالکل بے تعلق ہوتا ہے ، ضرور پہنچ جاتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تا تو ہمیں کبھی بھی الحمد للہ کہنا نہ سکھایا جاتا۔امریکہ کی ایک چیونٹی پر خدا تعالیٰ کی جو روبیت کی صفت ظاہر ہوتی ہے اس کا اگر میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں تو کیا وجہ ہے کہ میں قادیان میں بیٹھا ہوا الحمد لله رب العلمین کے کہتا ہوں۔اس صورت میں تو میرے لئے اتنا کہنا کافی تھا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَتِي يَا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ أَبَانِى الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ذُرِّيَّاتِي الْحَمْدُ اللهِ رَبِّ احبانِی یا اسی طرح اور دوستوں ہمسایوں اور تعلق رکھنے والے طبقہ کو شامل کرلوں۔مگر خدا تعالی کا یہ سکھانا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہو ہر انسان کو بتا تا ہے کہ دنیا کے کسی گوشہ میں بھی اگر کسی پر ہماری ربوبیت کی صفت ظاہر ہوتی ہے تو یہ تجھ پر احسان ہے جس کے لئے خدا کی حمد تجھ پر واجب ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز دوسری چیزوں سے بے تعلق اور باقی چیزوں سے علیحدہ نہیں ہو سکتی بلکہ تمام مخلوقات خواہ وہ اس دنیا میں ہے یا اس سے باہر ذی روح