خطبات محمود (جلد 13) — Page 393
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء باتیں ضروری ہیں کہ اول بیماری سے پہلے اس کی احتیاط کی جائے اور دو سرے بیماری کے آنے پر اس کے دفعیہ کے اسباب استعمال کئے جائیں۔پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں یہ بتلایا کہ انسان کے میں بیماری میں مبتلاء ہوں۔مجھے اس سے نجات دی جائے اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ولا الضالین میں یہ سکھایا کہ انسان کے کہ جب میں صحت یاب ہو جاؤں تو تو ایسے سامان پیدا کر کہ پھر صحت خراب نہ ہو۔اس تعلیم سے اسلام نے روحانی بیماروں سے نفرت کرنے کے طریق کو دور کر دیا ہے کیونکہ جو بیمار تندرست ہو سکتے ہیں ان سے نفرت نہیں کی جاتی اور جن بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے ان کے مریضوں سے علیحدگی نہیں اختیار کی جاتی۔پس فرمایا کہ ہر وقت ہوشیار رہو۔اگر گری ہوئی حالت میں ہو تو مایوس نہ ہو۔اور اگر خدا صحت دے تو کبر نہ کرو - مؤمن کو ان دونوں مقامات کے درمیان رہنا چاہئے کامیابی پر مغرور نہ ہو اور تکلیف پر مایوس نہ ہو کیونکہ دونوں کے لئے سامان ہیں۔اور جب خداتعالی انسان کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق دے اسی وقت کامیابی پر الحمد للہ کہنے کا مستحق ہو جاتا ہے۔ہر شخص جو صحیح رستے پر نہیں ہے اس میں دونوں باتوں میں سے ایک نہ ایک بات ضرور ہوگی۔مایوسی ترقی کو بند کرتی ہے اور ضرور نیچے گرا دیتا ہے۔ہماری جماعت کو ان دونوں نقصوں سے بچنا چاہئے۔جبکہ خیرو شر دونوں کے دروازے کھلے ہیں تو مومن کا فرض ہے کہ وہ شر سے بچے اور خیر کو اختیار کرے۔دین میں بھی اور دنیا میں بھی۔ا ابن ماجه کتاب الزهد باب ذكر التوبة (الفضل ۱۳ مارچ ۱۹۳۲ء) الفاتحة : الفاتحة: