خطبات محمود (جلد 13) — Page 379
خطبات محمود ٣٧٩ ہے۔۔کرتے ہیں۔اس پر گورنر پر کھل گیا کہ رسول کریم مے خدا کے رسول ہیں اور اس علاقہ میں اسلام پھیل گیا۔تو اللہ تعالیٰ کے کام کے لئے بندوں سے نہیں ڈرنا چاہئے۔یہ خطرہ تو ہو سکتا ہے کہ ہماری کمزوریاں اس میں کوئی خرابی نہ ڈال دیں وگرنہ دنیا کی سب طاقتیں مل کر بھی اسے نہیں روک سکتیں۔خدا تعالی کی تائید و نصرت شامل حال ہو تو بڑی بڑی حکومتیں بھی شکست کھا جاتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کے مظلوم بندوں کی حمایت میں لگے رہو۔ابھی چند روز کی بات ہے کہ یہی وزیر اعظم اتنا زور ریاست میں رکھتے تھے کہ سب ان سے ڈرتے تھے اور کسی کو ان کے منشاء کے خلاف چلنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔اس وقت میں نے انہیں کہلا بھیجا کہ یہ سب رعب و داب چند روز کی بات ہے اگر آپ اس عہدہ پر رہنا چاہتے ہیں تو مسلمانوں کے ساتھ صلح کرلیں۔چنانچہ پچھلے دنوں جو میں لاہور گیا تو ان کے بھائی کے پاس جو لاہور میں رہتے ہیں درد صاحب کو بھیجا کہ جاکر کہیں کہ وہ اپنے بھائی کو یہ سمجھائیں کہ مسلمانوں کے حقوق دے دیں اور ظلم اور تعدی سے باز آجائیں ورنہ وہ اپنے عہدہ پر نہیں رہ سکیں گے۔ورد صاحب دس بجے کے قریب وہاں سے واپس آئے اور گیارہ بجے وہ خود اپنے بھائی کے مکان پر پہنچ گئے۔ان کے بھائی نے میرا پیغام ان کو پہنچا دیا جسے وہ سنتے ہی جموں چلے گئے۔مگر وہاں جو کچھ ہو نا تھا ہو گیا۔اس میں شبہ نہیں کہ میں نے الہی خبر کے ماتحت یہ نہیں کہا تھا بلکہ ان کے متعلق جو خبریں مجھے ملیں ان کو میں نے قبول کر لیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس میں اللہ تعالی کا ہاتھ ہے۔کشمیر کے باقی ظالم افسروں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔انسان کے لئے سب سے بڑی تباہی یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو نہیں پہچانتا اور غرور میں رہتا ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ پہلے سے بھی زیادہ دعائیں کریں اور مالی و جانی قربانیوں کے لئے بھی تیار رہیں۔میں نے بتایا تھا کہ یہ بھی غلام کو آزاد کرانا ہے۔اب اس قسم کے غلام تو نہیں جو پہلے زمانہ کے تھے اس لئے اس زمانہ میں ایسے لوگوں کو جو اس طرح مظلوم اور حکام کی تیغ ستم کے نیچے ہیں ، چھڑانا غلاموں کو آزاد کرانے کے مترادف اور ثواب کا موجب ہے۔طبری جلد ۳ صفحه ۱۵۷۲ تا ۴ ۷ ۱۵ مطبوعہ بیروت (الفضل ۲۵ فروری ۱۹۳۲ء) 2