خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 378

خطبات محمود ۳۷۸ سال ۱۹۳۲ء کہ جاکر پکڑ لاؤ۔اور ساتھ ہی کہا میری طرف سے یہ سمجھا دیتا کہ شاید تمہیں معلوم نہ ہو ایران کے بادشاہ کی کتنی طاقت ہے اور اس کی حکم عدولی کیسے نتائج مرتب کر سکتی ہے بہتر ہے کہ تم اپنے آپ کو سپرد کر دو۔میں سفارش کروں گا کہ تمہارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔وہ پیغامبر مدینہ میں آئے اور یہ حکم سنایا۔رسول کریم میں اللہ نے فرمایا میں تیسرے دن جواب دوں گا۔اس وقت مسلمانوں کے پاس کوئی ظاہر سامان نہیں تھے۔اور زیادہ سے زیادہ ان کا تصرف مدینہ یا اس کے ارد گرد پر تھا۔تعداد میں چند ہزار سے زیادہ نہ تھے اور مقابل پر اتنی بڑی سلطنت تھی جتنی آج انگریزوں کی ہے۔اور چین شام تک ایرانی حکومت تھی جس کا مقابلہ آسان نہ تھا لیکن رسول کریم کو وہ ایمان حاصل تھا جو دنیا میں کبھی کسی کو حاصل نہیں ہوا۔اس لئے آپ کے نزدیک اس حکومت کی کوئی حیثیت نہ تھی۔آپ کسی بادشاہ سے نہ ڈرتے تھے۔آپ کا بادشاہ صرف ایک تھا یعنی اللہ تعالی - تین دن کے بعد جب انہوں نے دریافت کیا کہ فرمائیے آپ کیا جواب دیتے ہیں اور ساتھ ہی پھر کہا کہ ایران کے بادشاہ کی طاقت بہت زیادہ ہے اسلئے آپ اس کے حکم کا انکار نہ کریں ہاں گور نریمن سفارش کریں گے اور نرمی کا برتاؤ کرانے کی کوشش ہوگی لیکن انکار کی صورت میں تمام عرب تباہ ہو جائے گا۔آپ نے فرمایا جاؤ اور جاکر گور نر سے کہہ دو کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار دیا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مار اس طرح نہیں ہوتی کہ وہ خود خنجر لے کر آئے۔بلکہ بندوں کے ہی دلوں میں تحریک کر کے کام لے لیتا ہے۔انہوں نے یہ سن کر پھر کہا اس کا نتیجہ بہت نقصان دہ ہو گا۔مگر آپ نے فرمایا تم جاکر یہ کہہ دو انہوں نے کہا اگر تو یہ بات کچی ہوئی تو ہم مان لیں گے کہ آپ خدا کے نبی ہیں ورنہ سارے عرب کے متعلق ہمیں ڈر ہے کہ بادشاہ اسے ویران کر دے گا۔آخر وہ لوگ واپس آگئے اور گور نر کو یہ جواب سنادیا۔اس نے کہا ہمیں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ایران کی اطلاع کا انتظار کرنا چاہئے۔کچھ دنوں کے بعد ایران سے ایک جہاز آیا جس پر سے چند سفیر اترے اور گور نریمن کو ایک خط دیا۔اس زمانہ کے دستور کے مطابق وہ آداب بجالایا اور اسے بوسہ دیا لیکن اس کا دل دھڑکنے لگا کیونکہ اس پر نئی حکومت کی مہر تھی۔جب اس نے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ ہم نے اپنے باپ کے ظلم و تعدی کو دیکھ کر اسے قتل کر دیا ہے اور اب ہم بادشاہ ہیں اس لئے ہماری اطاعت کا سب سے اقرار لو۔ہمارے باپ کے دوسرے ظلموں کے علاوہ اس کا ایک وہ حکم بھی تھا جو اس نے عرب کے ایک شخص کی جس کا کوئی گناہ نہیں گرفتاری کے متعلق دیا تھا اس لئے ہم اسے منسوخ