خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 377

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء ہوں اگر انہوں نے اصلاح نہ کی تو ان کو بھی نقصان پہنچے اس لئے میں نے دوستوں سے کہا تھا کہ ان کے والد کی وجہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالی انہیں اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور وہ ظلم جو کسی زمانہ میں بھی جائز نہ تھا مگر اس زمانہ تہذیب میں تو بہت ہی بھیانک ہے اس کے لئے ذمہ دار افسروں کو علیحدہ کر دیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ان واقعات و نتائج میں اللہ تعالٰی کا ہاتھ ہے اور پھر میں یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف جو راجہ مہاراجہ حکومت یا بادشاہ چلے گا وہ دکھ اور عذاب میں گرفتار ہو گا۔اور جب اس تحریک میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے تو کوئی شخص خواہ وہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو ، اگر اس میں دخل دے گا اور اس کی مخالفت کرے گا تو ضرور مونہہ کی کھائے گا۔پس دوستوں کو پہلے سے بھی زیادہ دعاؤں اور توجہ کی نصیحت کرتا ہوں۔بتیس لاکھ بندگان خدا کی مظلومیت کوئی معمولی بات نہیں۔کسی انسان کا اگر ایک بیٹا یا بیٹی بیمار ہو تو اسے کس قدر تکلیف ہوتی ہے لیکن خدا تعالی کی اتنی مخلوق جب اس قدر مصیبت میں گرفتار ہے تو یقینا ہم بھی آرام کی نیند نہیں سو سکتے۔ہم اگر اور کچھ نہیں کر سکتے اگر چہ اور بھی کئی طریق سے ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں مثلا روپیہ سے لوگوں میں انکے لئے ہمدردی پیدا کرنے سے غرضیکہ کئی ذرائع ہیں لیکن اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا تو ضرور کریں۔اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔وہ لوگ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے بے شک دعاؤں پر تمسخر اڑائیں لیکن جن کا خدا پر ایمان ہے ان کے نزدیک سب سے بڑا حریہ دعا ہے۔اس کے مقابلہ میں نہ حکومتوں کی کچھ حقیقت ہے نہ بادشاہوں اور ان کی افواج کی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ہو تو اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔رسول کریم میں ولی کی زندگی کا ایک واقعہ میں نے کئی بار سنایا ہے۔اس زمانہ میں ایران کے بادشاہ کی ویسی ہی طاقت تھی جیسی آج انگریزوں کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ اب پارلیمنٹ ہے اور اس زمانہ کے ایرانی بادشاہ خود مختار ہوتے تھے۔اس زمانہ میں کسی شخص نے رسول کریم میم کے خلاف اسے یہ کہہ کر بھڑکا یا کہ یہ تمہاری سلطنت کے لئے خطرہ ہے۔اس پر اس نے یمن کے گورنر کو لکھا کہ سنا ہے کہ عرب میں کوئی شخص اس طرح کا ہے اور اس کا وجود ہماری سلطنت کے لئے خطرہ کا موجب ہو سکتا ہے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اسے گرفتار کر کے میرے دربار میں حاضر کرو۔اس زمانہ میں ایران کا اس قدر د بد یہ تھا کہ گورنرنے اس حکم کی تعمیل کے لئے مدینہ میں کسی فوج وغیرہ کے بھیجنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی بلکہ صرف تین آدمی بھیج دیئے