خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 368

خطبات محمود ٣٦٨ سال ۱۹۳۲ء حرارت تیز ہو جاتی ہے ہر شخص کو پتہ لگ جاتا ہے کہ اسے بخار ہے لیکن سل اور دق کا مریض سالہا سال سے اپنے جسم میں کمزوری محسوس کرتا ہے مگر وہ خیال کرتا ہے کہ شاید کھانا اچھا نہیں ملتا۔یا کام زیادہ کرتا ہوں جسکی وجہ سے کمزوری ہو رہی ہے۔حالانکہ اندر ہی اندر مرض اپنا کام کر رہا ہوتا ہے۔اور اسے تب پتہ لگتا ہے جب اس کے پھیپھڑ نے زخمی ہو جاتے ہیں اور مرض اپنا کام کر چکتا ہے۔غرض ایسی بیماریاں جن کا مریض کو علم نہ ہو اور اندر ہی اندر اسے کھاتی چلی جائیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔بالکل اسی طرح وہ شخص جو اپنے دل میں نفاق کی بیماری رکھتا ہے مگر اسے محسوس نہیں کرتا خطرے کے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے۔پس اپنے نقائص کو محسوس کرو۔اور ان کی اصلاح کی کوشش کرو۔میں متواتر کئی سالوں سے جماعت کو تبلیغ کے لئے توجہ دلا رہا ا ہوں اب پھر توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تبلیغ کرو اور پورے زور سے کرو۔یہ مت خیال کرو کہ تم نے پچھلے سال کافی تبلیغ کر لی۔اگر اس سال نہ کرو گے تو کیا حرج ہے۔جب تمہاری صبح کی روٹی شام کو کافی نہیں ہوتی تو کس طرح تمہارے پچھلے سال کی تبلیغی کوشش اس سال تمیں سر خرد کر سکتی ہے۔جس طرح ایک منٹ پہلے کا سانس تمہارے لئے کافی نہیں بلکہ تمہارے لئے دوسرے منٹ کے لئے ایک اور سانس اور نئی ہوا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک منٹ پہلے کا ایمان بھی تمہارے لئے کافی نہیں جب تک دوسرے منٹ نیا اور تازہ ایمان تمہارے اندر پیدا نہیں ہوتا۔اور اگر تم دیکھتے ہو کہ پہلے کسی وقت تم میں ایمان پیدا ہوا مگر اب نہیں تو یاد رکھو تمہارے دل میں کفر تو آچکا اور تم پر روحانی طور پر موت وارد ہو چکی۔پس اپنے ایمان کی فکر کرو اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ جس طرح تمہیں جسمانی حیات کے لئے ہر لمحہ تازہ ہوا تازہ کھانا اور تازہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح روحانی زندگی کے لئے تمہیں تازہ بتازہ نشانات روحانیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جس طرح تمہاری جسمانی زندگی بغیر تازہ کھانے اور تازہ ہوا کے قائم نہیں رہ سکتی اسی طرح تمہاری روحانی زندگی بھی بغیر تازہ نشانات کے قائم نہیں رہ سکتی۔پس تبلیغ پر زور دو اور دشمنوں کا ڈر اپنے دل سے نکال دو۔زیادہ سے زیادہ انکی طرف سے تمہیں جان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔مگر یہ بھی تو سوچو کہ تم صحابہ کے مثیل ہو اور صحابہ تو شہادت کو ایسا عزیز سمجھتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے چونکہ آپ خلافت کی وجہ سے باہر جنگوں پر جا نہیں سکتے تھے اس لئے آپ دعامانگا کرتے تھے کہ الہی مجھے مدینہ میں ہی شہادت کی موت عطا فرما - آخر اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں ہی ان کی شہادت کا سامان کر دیا اور ایک شخص نے جو منافق یا