خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 367

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء نے مخالفین کے مقابل پر کمزوری دکھائی اور انہوں نے تبلیغ میں کو تاہی کی ہے جو مومنانہ شان کے خلاف ہے۔اب پھر میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور جب بھی لوگوں کی طرف سے مخالفت بڑھے ، پہلے سے بھی زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ تبلیغ میں لگ جائیں اور اس امر کی ہمیشہ کوشش کریں کہ مقابلہ ہمیشہ مخالفت کی نسبت سے ہو۔یعنی جتنی جتنی مخالفت زیادہ ہو اتنے ہی زیادہ جوش سے تبلیغ کا کام کرو۔اگر پہلے مکانوں اور جلسہ گاہوں میں تبلیغ کرتے تھے تو پھر بازاروں اور کوچوں میں چلے جائیں اور دیوانہ وار لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچائیں اور دشمنوں پر ثابت کر دیں کہ ہم بزدل نہیں بلکہ جتنے زیادہ ہتھیاروں کے ساتھ مسلح ہو کر دشمن ہمیں دبانے کے لئے نکلتا ہے ہم اتنے ہی زیادہ ابھرتے ہیں اور دکھا دیتے ہیں کہ مومن کبھی بزدل نہیں ہو تا۔آخر زیادہ سے زیادہ تمہیں کس بات کا خوف ہو سکتا ہے۔یہی ہو گا کہ لوگ تمہیں ماریں گے پیٹیں گے رکھ دیں گے۔لیکن اگر تم خدا کی راہ میں ان باتوں کے لئے بھی تیار نہیں اور اگر تم خدا کے لئے قید و بند کی مصیبتیں جھیلنے اور دشمنوں کی مار سہنے کے لئے تیار نہیں تو تم اپنے دعویٰ ایمان میں بچے کس طرح ہو سکتے ہو۔اس کے تو صاف معنے یہ ہیں کہ تم مؤمن نہیں بلکہ منافق ہو۔لیکن سمجھتے ہو کہ تم مومن ہو۔اور اس شخص کی حالت زیادہ خطرناک ہوتی ہے جو بیمار ہو اور پھر یہ سمجھے کہ میں بیمار نہیں ہوں۔ایک ایسا شخص جو واقعہ میں منافق ہے اور جسے علم ہے کہ میں منافق ہوں، بالکل ممکن ہے وہ ایک وقت اپنی اصلاح کرلے کیونکہ اسے اپنی بیماری کا علم ہے لیکن وہ شخص جو منافق ہونے کے باوجود اپنے نفاق سے بے خبر ہے وہ اپنی بیماری کا علاج نہیں کر سکتا وہ اسی حالت میں رہے گا اور ہدایت سے محروم ہو جائے گا۔دیکھ لو ہر ایک بیمار قابل رحم ہو تا ہے لیکن سب سے زیادہ قابل رحم پاگل ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی بیماری سے بے خبر ہوتا ہے۔ساری دنیا سمجھتی ہے کہ وہ بیمار ہے لیکن وہ اپنے آپ کو تندرست سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ ایک میں ہی تندرست ہوں باقی سب لوگ بیمار ہیں۔چنانچہ کسی پاگل کو پاگل کہہ کر دیکھو وہ سر پھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔پس سب سے زیادہ قابل رحم شخص پاگل ہو تا ہے کیونکہ وہ اپنی بیماری کو محسوس نہیں کرتا۔اسی طرح وہ امراض بھی خطرناک ہوتی ہیں جو اندرونی تغیرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں جیسے سل اور دق ہے۔کیونکہ ان مرضوں کا اس وقت علم ہو تا ہے جب مرض بیمار کو نڈھال کر دیتا ہے اور اس کا علاج ناممکن ہو جاتا ہے۔لیکن جو بیماریاں ظاہر ہوں اور ان کا پتہ جلدی لگ سکے وہ ایسی خطرناک نہیں ہو تیں۔مثلا ملیریا ہے فوراہی جب