خطبات محمود (جلد 13) — Page 351
خطبات محمود ۳۵۱ سال ۱۹۳۲ء احمدیوں کے ہاتھ آجائیں۔اور اس صورت میں ہم گلیوں کو بھی ان کی موجودہ جگہ سے ہٹا سکیں اور مسجد شمال کی طرف بھی بڑھائی جاسکے۔اس وقت جو تبدیلی کی جائے اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس بر آمدہ کی چھت اونچی کی جائے۔مجھ سے کئی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ خطبہ کی آواز نہیں پہنچتی۔حالانکہ جلسہ کے موقع پر جبکہ مجمع بہت زیادہ ہوتا ہے سب لوگ میری آواز سن سکتے ہیں۔یہاں نہ سن سکنے کی وجہ صرف یہی ہے کہ بر آمدہ نیچا ہے اور ممبر پر کھڑے ہو کر بولنے سے بر آمدہ کی چھت سے آواز رک جاتی ہے۔پس جب تبدیلی کی جائے تو اس امر کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ اس بر آمدہ کی چھت اونچے ستونوں پر ڈالی جائے اور اسے ذرا اور پھیلا دیا جائے۔اس سے خوبصورت بھی معلوم ہو گا اور آواز بھی صاف سنی جاسکے گی اور جگہ بھی زیادہ نکل آئے گی۔اس کے بعد میں احباب کو اسی مضمون کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو چند روز قبل بیان کر چکا ہوں یعنی مسئلہ کشمیر کے متعلق میں نے جایا تھا کہ آثار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ اس طرف ہے۔اس کے بعد کثرت سے دوستوں نے رڈیا اس کے متعلق سنائے ہیں جن کی تعداد ۵۰-۴۰ کے قریب ہے۔بعض اس واقعہ سے قبل کے ہیں اور بعض بعد کے۔اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ میرا یہ استنباط بالکل صحیح تھا کہ اللہ تعالٰی کی اس طرف خاص توجہ ہے اور اس خطبہ کے معابعد ریاست میں فساد پیدا ہو جانا اور حالات کا زیادہ بگڑ جانا ظاہر کرتا ہے کہ یہ مسئلہ خاص طور پر خدا تعالی کی نگاہ میں ہے۔جب خدا تعالیٰ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو ظاہری لحاظ سے اس میں مشکلات اور خرابی بھی پیدا کر دیتا ہے تاجب اس میں کامیابی ہو تو دنیا کو معلوم ہو سکے کہ یہ خاص اسی کا کام ہے۔اور اس وقت چونکہ مسلمانان کشمیر پر سخت ظلم ہو رہا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ضرور اپنی قدرت کا ہاتھ دکھانا چاہتا ہے۔مجھے تو مہاراجہ صاحب کشمیر پر بہت رحم آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے باپ کے فرزند ہیں جسے اسلام سے محبت تھی۔جس کے حضرت خلیفہ المسیح الاول کے ساتھ بھائی چارہ کے تعلقات تھے اور قادیان آجانے کے بعد بھی برابر ان کے درمیان خط و کتابت جاری رہی اور انہوں نے آپ سے ۱۵ سپارے قرآن شریف کے بھی پڑھے تھے۔ان وجوہات کی بناء پر مجھے شروع سے ہی مہاراجہ صاحب کشمیر کے ساتھ دلی ہمدردی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ انہیں کسی قسم کا نقصان پہنچے بغیر یہ کام ہو جائے۔مگر ریاست کے غریب مسلمانوں پر جو مظالم روا رکھے جارہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ لاکھوں آہیں ان کے خلاف اٹھ رہی ہیں جو یقینا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے کا موجب ہوں