خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 350

خطبات محمود ۳۵۰ سال ۱۹۳۲ء ہیں۔اگر دار الرحمت کے لوگ اتنے ہی خرچ سے اپنے محلہ میں مسجد بنواتی نے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ قادیان کی ساری جماعت مل کر پانچ چھ ہزار روپیہ مرکزی مسجد کے لئے خرچ نہ کر سکے۔میں جانتا ہوں کہ بعض بیرونی مخلصین اس بات کو نا پسند کریں گے کہ اس مسجد کی توسیع میں جسے اللہ تعالٰی نے مسجد اقصیٰ قرار دیا اور جو اس کے انوار کی جلوہ گاہ ہے اور جو در حقیقت ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے حصہ لینے سے انہیں محروم کر دیا جائے۔لیکن اس کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی حصہ لینا چاہے تو لے ہم کسی کو حکم نہیں دیں گے کہ وہ ضرور اس میں حصہ لے۔یعنی اس میں با قاعدہ چندوں کی طرح جماعت وار اس کو تحریک نہیں کی جائے گی۔یا د رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی برکات جس وقت نازل ہونا شروع ہوتی ہیں تو وہ آثار سے پہچانی جاتی ہیں۔اگر وہ جماعت جسے دشمن چاہتے تھے کہ کچل دیں۔ہر سال یا دوسرے تیسرے سال اپنی سابقہ عمارتوں کو اپنی وسعت کے مقابلہ میں تنگ محسوس کرنے لگے تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نشان ہے۔لیکن یہ بھی اس کی سنت ہے کہ جب وہ کسی جماعت کو وسعت دینا چاہتا ہے لیکن وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتی اور اللہ تعالٰی کے فضلوں کے ساتھ ساتھ ترقی کرنے کی کوشش نہیں کرتی تو وہ پھر اسے تنگ کر دیتا ہے۔پس پیشتر اس کے کہ خدا تعالیٰ کے جب یہ خود وسعت نہیں چاہتے تو انہیں کیوں وسعت دی جائے اور اس رنگ میں اس کی نگاہ ہم پر پڑے ، اس طرف توجہ کرو۔اور جس قدر جلد ہو سکے مسجد کو وسیع کر دو اور دعائیں کرتے رہو کہ خدا تعالیٰ اور بھی وسعت عطا فرمائے۔سر دست ہمیں یوں کرنا چاہئے کہ ممبر کو اور جنوب کی طرف رکھ دیا جائے عورتوں والے حصہ کو بھی مردوں کے حصہ میں شامل کر دیا جائے۔اور ملحقہ عمارت خرید کر عورتوں کے لئے مخصوص کر دی جائے۔پھر اگر خد اتعالیٰ توفیق دے تو کسی وقت موجودہ ڈاک خانہ والا مکان شامل کر کے اور گلی پر چھت ڈال کر مسجد کو دو گنا کیا جا سکتا ہے۔اور اگر چہ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی ہماری ترقیات کے مقابلہ میں یہ کسی وقت تنگ ہی نظر آئے گی لیکن مسجد کی طرف سے ایک جگہ جا کر اسے فی الحال ضرور رکنا پڑے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرمایا کرتے تھے۔کوئی وقت آئے گا کہ ہمارے گھر سے چل کر مسجد میں داخل ہو جایا کریں گے اور راستہ میں سڑک پر نہیں چلنا پڑے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانات کے پاس پہنچ کر ضرور اس کی وسعت روکنی پڑے گی۔ورنہ وہ پیشگوئی پوری نہ ہو سکے گی۔یا پھر شاید وہ وقت بھی آجائے کہ پاس کے سب مکانات اور دکانیں