خطبات محمود (جلد 13) — Page 349
خطبات محمود ۳۴۹ سال ۱۹۳۲ء شریعت نے دی ہے آج اس پر عمل کر کے بھی شاید گزارہ نہ ہو سکے۔پس ان لوگوں کو جو آج نماز میں شامل ہونے کے لئے جمع ہوئے ہیں میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ان میں سے قضائے عمری کی نیت سے شامل ہوا ہے تو یہ ایک حقیر اور ذلیل چیز ہے جو اس کے پیش نظر ہے اور وہ بجائے نیکی کے بدی کا مرتکب ہوتا اور گنہگار ٹھہرتا ہے۔لیکن اگر کوئی اس خیال سے آیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس رات کو لیلتہ القدر قرار دیا ہے اور یہ مقام آپ کی نزول گاہ ہے اور خدا تعالیٰ کے انوار یہاں نازل ہوتے ہیں۔اس مسجد کا نام خدا تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ رکھا ہے اور اس کے متعلق فرمایا ہے کہ مُبارَک وَمُبَارَكُ كُلُّ امْرِ مُبَارَكَ يُجْعَلُ رفیہ لے یعنی جو کام یہاں کیا جائے گاوہ بابرکت ہو گا۔تو اس مسجد کی نماز اس کے لئے زیادہ ثواب کا موجب ہوگی۔پس اگر چہ نماز کے متعلق میں یہ کہنے سے تو ڈرتا ہوں کہ اس دن نہ آیا کرو لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ نیک نیت کے ساتھ آؤ اور قضا عمری کا خیال تک دل میں نہیں ہونا چاہئے۔ہاں جو شخص نیک نیتی سے گھر کو چھوڑتا ہے اور پیدل چل کر یا سواری کے ذریعہ یہاں آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا اور وہ ثواب سے محروم نہ رہے گا۔پس جہاں میں یہ کہتا ہوں کہ خصوصیت سے اس دن کو عبادت کا دن نہ بناؤ وہاں مسجد میں آنے سے بھی ہرگز نہیں روکتا۔نماز کے لئے ضرور آؤ مگر ثواب کی نیت سے آؤ اور یہ خیال لے کر آؤ کہ یہ مقدس جگہ ہے۔اس کے بعد میں احباب جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ مسجد جو کسی وقت آدمیوں کی محتاج تھی ، اب ہمارے لئے تنگ ہو رہی ہے اب وہ دن آگیا ہے کہ ہم اسے بڑھانے کی کوشش کریں اس کے جس طرف راستہ ہے ادھر تو بڑھائی نہیں جاسکتی اس لئے اس کے بڑھانے کی صرف یہی صورت ہے کہ دوسری طرف کے مکانات خرید کر اس میں شامل کرلئے جائیں۔ایک مکان تو خرید بھی لیا گیا ہے اور اگر خدا نے چاہا تو کسی وقت مسجد میں شامل کیا جاسکے گا۔فی الحال اسے جنوبی پہلو میں بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے سنا ہے کہ ایک احمدی دوست اپنا مکان فروخت کرنا چاہتے ہیں۔کارکنوں کو چاہئے کہ اگر وہ فروخت کریں تو اسے خرید لیں اور اسکی تعمیر کو صرف قادیان والے اپنا فرض سمجھیں۔یہ غلط اصول ہے کہ ہم مقامی کاموں میں بیرونی جماعتوں کی امداد کے خواہشمند ہوں۔یہ کم ہمتی ہے جسے جس قدر جلد ہو سکے دور کرنا چاہئے۔اگر محلہ دار الفضل کے لوگ ڈیڑھ دو ہزار روپیہ خرچ کر کے اپنے لئے مسجد تیار کر سکتے