خطبات محمود (جلد 13) — Page 348
خطبات محمود ۳۴۸ 42 مسلمانان کشمیر کی مدد کرو اور فتنہ و فساد سے بچو (فرموده ۵- فروری ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔یہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے اور آخری عشرہ میں آخری جمعہ اور ۲۷ تاریخ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا ہے جب جمعہ اور رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ جمع ہوں تو لیلتہ القدر ہوتی ہے۔پس یہ دن ایک نہایت ہی مبارک دن ہے اور ایک غنیمت گھڑی ہے جس سے مؤمن جتنا بھی فائدہ اٹھا سکیں تھوڑا ہے۔کہا جاتا ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ میں لوگ کثرت سے شریک ہوتے ہیں حتی کہ جو لوگ سال بھر نماز کے قریب بھی نہیں آتے وہ بھی اس میں شریک ہو جاتے ہیں ان کا خیال ہے کہ آج کی نماز سارے سال کی نمازوں کی قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کا نام انہوں نے قضا عمری رکھا ہوا ہے۔مجھے معلوم نہیں اسی خیال کے ماتحت یا کسی اور وجہ سے ہماری جماعت کے لوگ بھی اس دن کثرت سے شامل ہوتے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ہماری جماعت کے جو لوگ پہلے نمازوں میں نہیں آتے وہ بھی شامل ہوتے ہیں کیونکہ سوائے چند ایک آوارہ لڑکوں کے یا بعض منافقوں کے یہاں کے لوگ پہلے ہی مسجدوں میں با قاعدہ آتے ہیں میرا مطلب یہ ہے کہ اس دن باہر کی جماعتیں بھی شریک نماز ہوتی ہیں اور اس وجہ سے ہجوم زیادہ ہو جاتا ہے چنانچہ آج بھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کا اس قدر ہجوم ہے کہ مسجد سے باہر کمروں میں اور مکانوں کی چھتوں پر بھی عورتیں مرد بیٹھے ہیں مگر پھر بھی جگہ کی تنگی ہو رہی ہے اور مرد مسجدوں میں جس طرح ہجوم کر کے تنگی سے بیٹھے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز نہیں پڑھی جاسکے گی ایک دوسرے کی پشت پر سجدہ کرنے کی جو اجازت