خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 338

خطبات محمود ٣٣٨ سال ۲ حضرت یوسف علیہ السلام کو خرید نے گئی تھی۔لیکن ساتھ ہی یہ مت خیال کرو تمہارا حصہ بہت تھوڑا ہے۔ممکن ہے تمہارا پیسہ یا دھیلہ یاد مری ہی اس کی آزادی کا موجب ہو جائے اور اگر چہ دنیا کی نظر میں اس کی کچھ حقیقت نہ ہو مگر خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہو کہ اگر وہ دمڑی خرچ نہ کی جاتی تو یہ ملک آزاد نہ ہو سکتا۔دوسری چیز دعا ہے۔میں دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ رمضان کی دعاؤں میں کشمیر کی آزادی کو بھی شامل رکھیں۔اگر ہمارے پاس ریاست کے مقابلہ میں روپیہ نہیں ، آدمی نہیں فوجیں نہیں اور دوسرے دنیوی اسباب نہیں تو کچھ پرواہ نہیں کیونکہ ہمارے پاس وہ ہتھیار ہے جو دنیا کے سارے بادشاہوں کے پاس نہیں اور جس سے تمام حکومتوں کی متحدہ طاقتوں کو بھی شکست دی جاسکتی ہے اور وہ دعا ہے۔پرانے زمانہ میں جب مسلمانوں کے اندر خرابیاں پیدا ہونی شروع ہو ئیں تو ایک بزرگ تھے جنکے ہمسایہ میں ایک امیر رہتا تھا۔اس کے ہاں رات کے وقت گانا بجانا ہوتا تھا اور اس سے ہمسایوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ان کی اس تکلیف کو دیکھ کر اور آوارگی کی اس روح کو روکنے کے لئے اس بزرگ نے کہا اگر کوئی اور اسے نہیں روکتا تو ہم روکتے ہیں۔وہ گئے اور گانے والوں کو روک دیا۔اس پر امیر نے دریافت کیا کہ خاموشی کیوں ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا فلاں شخص روکتا ہے۔اس نے بزرگ سے دریافت کیا کہ تم کیوں روکتے ہو۔آپ نے فرمایا اہل محلہ کو تکلیف ہوتی ہے اس نے کہا تم نہیں جانتے میں بادشاہ کا درباری ہوں۔اگر تم لوگ میرا مقابلہ کرو گے تو میں شاہی سپاہی بلاؤں گا۔اس بزرگ نے کہا بے شک تم سپاہی لے آؤ ہم بھی مقابلہ کر لیں گے۔اس نے پوچھا تم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہو۔آپ نے جواب دیا کہ میں سپاہیوں سے نہیں بلکہ سام اللیل ( رات کے تیروں سے مقابلہ کروں گا۔اس بات کا امیر پر اس قدر اثر ہوا کہ فورا ہی اس کے دل کی حالت بدل گئی اور اس نے کہا رات کے تیروں کا میں واقعی مقابلہ نہیں کر سکتا اور باز آتا ہوں سو اگر تم اس مالی خدمت کے علاوہ جو کر سکتے ہو۔سهام اللیل بھی چلاؤ اور دعائیں کرو اور اگر مالی امداد نہیں کر سکتے تو صرف دعائیں ہی کرو تو یہ مدد معمولی مدد نہیں۔دنیا چاہے اسے ذلیل سمجھے لیکن خد اتعالیٰ کے نزدیک یہ بہت گراں قدر ہے۔رسول کریم میں نے فرمایا ہے کہ یتیم کو دکھ نہ دو اس کی دعا عرش الہی کو ہلا دیتی ہے۔کاش مہاراجہ کشمیر کو کوئی بتائے کہ تمہیں لاکھ مظلوموں کی آہیں آپ کے خلاف اٹھ رہی ہیں جن سے عرش الہی کانپ رہا ہے۔جس کے مقابلہ میں آپ کی مہارا جگی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔اور اگر آپ ان مظلوموں کی