خطبات محمود (جلد 13) — Page 337
خطبات محمود ۳۳۷ سال ۱۹۳۲ء آزادی کے لئے جو قربانیاں کی گئی ہیں اس کے دسویں حصہ میں کشمیر کے مسلمان آزاد ہو سکتے ہیں۔اگر چہ ریاست بھی پورا زور لگائے گی۔کیونکہ کون ہے جو آسانی سے اپنے غلاموں کو آزاد کرنا پسند کرے۔اس کی طرف سے سازشیں کی جائیں گی۔کشمیر میں اور یہاں بھی تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اور پورا زور لگایا جائے گا اور لگایا جا رہا ہے۔لیکن باوجود اس کے اسے کامیابی نہیں ہو گی۔مجھے چونکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر ہونے کی وجہ سے ہر قسم کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں اس لئے ان کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ ریاست کی طرف سے پانی کی طرح روپیہ بہانے اور افسروں کے رات دن لگے رہنے کے باوجو د بھی کام نہیں چلے گا۔اگر ظاہر میں میں ایک ناکامی ہوتی ہے تو باطن میں دو کامیابیاں بھی اللہ تعالیٰ دے دیتا ہے۔پس ہماری جماعت کے دوست جنہیں ہر وقت ثواب حاصل کرنے کا خیال رہتا ہے۔ان کے لئے یہ بھی ایک موقع ہے۔خصوصاً اس لئے بھی کہ میرے دل میں اس کے لئے تحریک ہو رہی ہے۔اور جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے اس کی طرف سے جو تحریک ہو وہ بیعت کرنے والے کے لئے زیادہ قدر و قیمت رکھتی ہے۔میرے علاوہ بعض دوسرے دوستوں کو بھی خواب کے ذریعہ سے تحریکیں ہو رہی ہیں۔کئی نادان خیال کرتے ہیں کہ یہ سیاسی کام ہے حالانکہ یہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔غلاموں کی آزادی قرآن کریم نے مذہبی کام قرار دیا ہے۔کئی جرائم کی سزا کے طور پر غلاموں کی آزادی رکھی ہے اور جس شخص نے ایک بار بھی کشمیر کو دیکھا ہے وہ ریاست کے تمام دعاوی اور جھوٹے پروپیگنڈا کے باوجود یہ کہنے پر مجبور ہو گا کہ کشمیر کے مسلمان یقینا غلام ہیں اور ان کی حالت دیکھنے کے بعد بھی جو یہ کہتا ہے کہ ان کو کسی قسم کے انسانی حقوق حاصل ہیں وہ یا تو پاگل ہے اور یا اول درجہ کا جھوٹا اور مکار - ان لوگوں کو خدا تعالیٰ نے بہترین دماغ دیتے ہیں اور ان کے ملک کو دنیا کی جنت بنایا ہے۔مگر ظالموں نے بہترین دماغوں کو جانوروں سے بد تر اور انسانی ہاتھوں نے اس بہشت کو دوزخ بنا دیا ہے۔لیکن خدا تعالی کی غیرت نہیں چاہتی کہ خوبصورت پھول کو کانٹا بنا دیا جائے اس لئے وہ اب چاہتا ہے کہ جسے اس نے پھول بنایا ہے وہ پھول ہی رہے اور کوئی ریاست اور حکومت اسے کانٹا نہیں بنا سکتی۔روپیہ ، چالا کی مخفی تدبیریں اور پروپیگنڈا کسی ذریعہ سے بھی اسے کانٹا نہیں بنایا جا سکتا۔چونکہ خدا تعالٰی کا منشاء یہ ہے اس لئے کشمیر ضرور آزاد ہو گا اور اس کے رہنے والوں کو ضرور ترقی کا موقع دیا جائے گا۔اگر تم اس میں حصہ لو گے تو گو بظاہر اس بڑھیا کی مثال ہوگی جس کے متعلق یہ قصہ مشہور ہے کہ وہ سوت کی انٹی لے کر