خطبات محمود (جلد 13) — Page 334
خطبات محمود م سمسم اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتاہے اور اگر وہ ایک قدم میری طب آتا ہے تو میں ایک گز اس کی جانب بڑھتا ہوں اور انسان ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا کامل اتحاد ہو جاتا ہے۔اس کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک اللہ تعالی سنتا ہے مگر وہ مادی کانوں کا محتاج نہیں ، وہ دیکھتا ہے مگر مادی آنکھوں کا محتاج نہیں، وہ دراء الوری ہستی ہے اور اس کا انسان کے ہاتھ بننے کے معنے یہ ہیں کہ ایسا انسان جب اپنے ہاتھوں سے کام کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت کام شروع کرتا ہے۔اور اس کی حفاظت اور نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔پاؤں بننے کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی توجہ پر دنیا میں برکات کا نزول ہو سکتا ہے اسی طرح اس بندہ کی آمد و رفت سے بھی برکات الہی وابستہ ہوتی ہیں۔آنکھیں بننے کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ جس کی طرف محبت و پیار کی نظر ڈالتا ہے اسے معزز و مقبول بنا دیتا ہے اسی طرح اس انسان کی آنکھوں میں وہی تأثیر پیدا ہو جاتی ہے کہ جس کی طرف نگاہ کرے خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہو نا شروع ہو جاتے ہیں۔ہم آج کل رمضان سے گزر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے ہمارے لئے بھی کھل سکتے ہیں اگر ہم کو شش کریں۔ہم میں وہ لوگ بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا کی ہے وہ خود بھی آرام و آسائش سے رہ سکتے ہیں اور دس ہیں اور کو بھی رکھ سکتے ہیں۔پھر ہم میں وہ بھی ہیں جو صرف اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ ہی بخوبی پال سکتے ہیں اوروہ بھی ہیں جو فاقے کرتے ہیں لیکن ہر ایک تکلیف جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے یا انسان کی سستی سے پیدا ہوتی ہے یا دوسروں کے ہاتھوں پہنچتی ہے اس پر صبر و شکر کرنے سے اتنا ثواب نہیں ہو تا جتنا اس تکلیف کا جو انسان خود اپنے نفس پر وارد کرتا ہے۔ایک انسان جسے ایک ہی وقت کھانے کو ملتا ہے وہ اس سے اتنا قرب الہی حاصل نہیں کر سکتا جتنا وہ شخص جسے دونوں وقت کھانا میسر آتا ہے مگر ایک وقت کا وہ خود اپنی مرضی سے نہیں کھاتا بلکہ کسی مسکین کو دے دیتا ہے۔پہلے نے بھی سات دنوں میں صرف سات بار کھانا کھایا اور دوسرے نے بھی مگر پہلا ثواب کا اتنا مستحق نہیں ہو سکتا جتنا دو سرا کیونکہ اس نے اپنی مرضی سے ایسا کیا لیکن پہلے نے مجبوری ہے۔بے شک مجبوری کے ماتحت تکلیف اٹھانے والا بھی ثواب کا مستحق ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے اور شرائط ہیں۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے صبر کا مقام رکھا ہے۔لیکن عبر کے وہ معنی نہیں جو ہمارے ملک میں عام طور پر سمجھے جاتے ہیں بلکہ وہ ہیں جو اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے بیان کئے تھے۔اگر انسان یہ بات حاصل