خطبات محمود (جلد 13) — Page 330
خطبات محمود ٣٣٠ 39 رمضان المبارک سے فائدہ اٹھاؤ فرموده ۱۵- جنوری ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں احباب کو نصیحت کی تھی کہ جہاں جہاں تک میری آواز پہنچے اور جماعت کو اطلاع ہو اس سال کے پروگرام میں علاوہ تبلیغ احمدیت کے اس بات کو خاص طور پر مد نظر رکھیں کہ باہم اتحاد و اتفاق کو ترقی دی جائے اور اس سلسلہ میں سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا جائے کہ جنہیں یہ اطلاع پہنچے وہ اس جمعہ تک جو آج گزر رہا ہے ، ایسے لوگوں سے جن سے ان کا جھگڑا دنیوی اور نفسانی وجوہات پر ہو صلح کرلیں اور کوئی یہ مت خیال کرے کہ میں مظلوم ہوں اس لئے دو سرے کو پہلے صلح کرنی چاہئے بلکہ مظلوم کو زیادہ ضرورت ہے کہ صلح کرے کیونکہ پہلے صلح کرنے والے کے لئے عظیم الشان انعام کا وعدہ ہے اور یہ یقینا بد قسمتی ہوگی کہ ایک تو انسان مظلوم ہو اور دوسرے صلح کرنے کے انعامات بھی ظالم کو مل جائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ دوستوں نے نہ صرف قادیان میں بلکہ باہر بھی اس پر ضرور عمل کیا ہو گا۔لیکن اس قدر وسیع جماعت کے کانوں تک ایک بات کو اتنی جلدی پہنچانا چونکہ آسان نہیں اور ممکن ہے متواتر ایک بات دہرانے کے بغیر بعض لوگوں تک نہ پہنچ سکے اس لئے مختصر ا میں نے پھر اسے بیان کر دیا ہے۔اس کے بعد میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جن کو خدا تعالی توفیق دے وہ رمضان المبارک سے فائدہ اٹھا ئیں۔اس مہینہ میں دعاؤں کی قبولیت کا خاص موقع ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان دنوں میں خاص طور پر دعائیں سنتا ہے۔اگر چہ یہ کہنا کہ خدا کو ان دنوں سے خاص تعلق ہے اس کی ہتک ہے لیکن اس میں شبہ نہیں کہ اس نے اپنے بندوں پر احسان کرنے کے ایسے ذرائع مقرر