خطبات محمود (جلد 13) — Page 278
خطبات محمود ۲۷۸ 33 ۱۹۳ء مسئلہ کشمیر اور جماعت احمدیہ (فرموده ۱۳- نومبر ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔چونکہ آج اس امر کے متعلق جس کے لئے میں تین مہینہ سے کوشش کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا پہلا قدم اٹھانے کی توفیق عطا فرمائی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں وہ خیالات جو اس عرصہ میں بعض دفعہ ہماری جماعت کے لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوتے رہے ہیں ان کے متعلق کچھ بیان کرنا ضروری ہے۔مجھے تحریر کے ذریعہ سے اور زبانی بھی کئی دوستوں کے یہ خیالات معلوم ہوئے کہ کشمیر کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اس میں ہماری جماعت کو دخل دینے یا اس معاملہ میں اپنی طاقتوں کو خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آزادی کشمیر کا مسئلہ ایک رنگ میں سیاسی مسئلہ ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک رنگ میں غیر سیاسی بھی ہے۔وہ لوگ جنھوں نے کشمیر یا کشمیر کے لوگوں کو خود نہیں دیکھا ہوا اور وہاں جاکر ان کی حالت سے واقفیت حاصل نہیں کی وہ بے شک یہ سوال کر سکتے ہیں کہ ہندوستان کی تحریک آزادی اور کشمیر کی تحریک آزادی میں کیا فرق ہے اور بے شک وہ کہہ سکتے ہیں کہ گاندھی کی تحریک اور اس تحریک میں ہمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔مگر وہ لوگ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے علاقہ کشمیر کو دیکھا وہاں کے مسلمانوں سے ملے اور جن کے تعلقات اہل کشمیر سے گہرے اور دوستانہ ہیں وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ اور واقف ہیں کہ کشمیر کی تمہیں لاکھ آبادی ایسے حالات میں سے گذر رہی ہے جسے غلامی سے کسی صورت میں بھی کم نہیں کہا جاسکتا۔یہاں کے لوگ اس امر کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ وہ غریب قوم صدیوں سے کسی مصیبت میں مبتلاء چلی آتی ہے۔مثال کے طور پر ایک مشہور واقعہ ہے جو موجودہ شورش کے ابتدائی واقعات میں سے ہے اسی سے اندازہ کر لو کہ