خطبات محمود (جلد 13) — Page 249
خطبات محمود ۲۴۴۹ سال ۱۹۳۱ء کرانا چاہتی ہیں تو اس کے لئے قربانی بھی کریں۔انہوں نے اپنا زیور اتار کر دے دیا اور کہا میری طرف سے قادیان میں یہ چندے کے طور پر دیدیں۔غرض ہر طبقہ میں ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ اس تحریک کے موقع پر انہوں نے خاص طور پر جوش دکھلایا۔اسی طرح غرباء کی جماعت میں سے نامہ کی احمدی عورتوں کی مثال قابل تقلید ہے۔وہاں زیادہ سے زیادہ دس گیارہ آدمی ہوں گے اور وہ بھی نہایت قلیل تنخواہیں لیتے اور مالی لحاظ سے بہت معمولی حیثیت رکھتے ہیں ان کی حیثیت معمولی کلرکوں سے بڑھ کر نہیں اور پھر ریاست کے کلرک تو بہت ہی نچلے درجہ میں ہوتے ہیں۔جن ریاستوں کے کمانڈر انچیف کی تین تین سو روپیہ تنخواہ ہو ان کے کلرکوں کی جو مالی حیثیت ہوگی وہ کسی سے مخفی نہیں ہو سکتی لیکن اس جماعت کی طرف سے جو رپورٹ آئی ہے وہ بہت ہی خوش کن ہے۔ان کی مجموعی رقم کا اگرچہ میں صحیح طور پر اندازہ نہیں کر سکا کیونکہ اس میں چاندی کے زیورات کی جو رقم شامل تھی وہ میں پڑھ نہیں سکا لیکن اگر اس رقم کا قلیل سے قلیل اندازہ بھی ہو تو بھی ستراتی روپیہ سے کم نہیں بنتے۔اور میں سمجھتا ہوں اس وقت تک جن جن جماعتوں کی طرف سے رپورٹیں پہنچتی ہیں ان میں سے نامہ کی جماعت کو اس قربانی میں دوسری جماعتوں پر فوقیت حاصل ہے۔اور میں اس موجودہ رپورٹوں کی بناء پر دوسری تمام جماعتوں پر ترجیح دیتا ہوں۔دراصل مقابلہ ہمیشہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک فردی مقابلہ ہوتا ہے اور ایک جماعت کا دوسری جماعت سے مقابلہ ہوتا ہے۔اس مقابلہ میں جو بحیثیت جماعت ہے نابھہ کی جماعت کو فوقیت حاصل ہے۔قادیان کی مستورات ہمیشہ چندہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں مگر ان میں اب ایک مرض پیدا ہو گیا ہے اور اچھے بھلے آدمی کو بھی جب کوئی مرض ہو جائے تو اس میں پہلی سی طاقت نہیں رہتی اور وہ کمزوری محسوس کرتا ہے۔وہ مرض یہاں کے مردوں میں بھی ہے اور عورتوں میں بھی۔اور وہ یہ کہ جس مجلس میں میں تقریر کروں اس میں تو لوگ جمع ہو جاتے ہیں مگر جس مجلس میں خلیفہ وقت نہ ہو عموماً کہا جاتا ہے کہ وہ مجلس مزے دار نہیں اور اسی لئے اس میں کئی لوگ شامل نہیں ہوتے۔اس دفعہ چندہ کی تحریک کے موقع پر میں بیمار تھا دوسرے میں یہ بھی چاہتا تھا کہ یہ مرض دور ہو اس لئے میں نے کہا کہ تحریک چندہ کے متعلق عورتوں کے جلسہ میں میں شامل نہیں ہوں گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے جہاں بعض دفعہ میری تقریر پر ہزار ہزار عورتیں جمع ہو جایا کرتی تھیں اس دفعہ معلوم ہوا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دو ستو عورتیں ہوں گی اور چندہ جو زیورات وغیرہ ملا کر ہو اوہ چار سوا چار سو کے قریب ہے حالانکہ اگر صحیح طور پر کوشش کی جائے تو