خطبات محمود (جلد 13) — Page 248
خطبات محمود ۲۴۸ سال ۱۹۳۱ء بھی انہیں مشورہ دیا کہ اس جمع کردہ روپیہ میں سے ایک حصہ اپنے لئے رکھ لیں انہوں نے ساری کی ساری رقم جو کئی سال سے جمع کر رہی تھیں مسجد لندن کی مرمت کے لئے خدا کے راستہ میں دے دی۔بعض عزیزوں نے بھی انہیں کہا کہ آپ ایک لمبے عرصہ سے یہ رقم ایک کام کے لئے جمع کر رہی تھیں اس لئے کچھ حصہ اس میں سے اپنی ضروریات کے لئے رکھ لیں مگر انہوں نے کہا نیک کاموں کے لئے روز روز کہاں موقع ملتے ہیں بجائے اس کے کہ یہ مال میں دنیا میں جمع کروں چاہتی ہوں کہ خدا کے بنک میں جمع ہو جائے۔اس قسم کی اگر ہماری جماعت میں سے چند خواتین ہی مثالیں پیش کر دیں تو مطلوبہ رقم کا فورا پورا ہو جانا کچھ بھی بڑی بات نہیں اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ ہماری جماعت جو لاکھوں افراد کا مجموعہ ہے اس میں سے چند بھی ایسی مثالیں نہ مل سکیں۔اس میں شبہ نہیں ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ آٹھ دس ہزار روپیہ کی تحریک بھی کوئی بڑی تحریک نہیں۔اور جو لاکھوں کی جماعت ہو اس کے ایک ہزار میں سے کوئی ایک دو ہزار میں سے کوئی ایک نیا چار ہزار میں سے ہی کسی ایک ایسی مالدار عورت کا ملنا بڑی بات نہیں جو اتنی قربانی کر سکے اور گو وہ آج کل کے مالدار ہونے کے معیار کے لحاظ سے مالدار نہ کہلائیں کیونکہ اب تو وہ زمانہ ہے کہ لاکھ پتی بھی مالدار نہیں کہلا سکتے۔صرف کروڑپتی مالدار سمجھے جاتے ہیں۔لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت میں وہ اپنے اموال کا ایک بڑا حصہ دے کر دوسروں سے نمایاں درجہ حاصل کر سکتی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہزاروں روپیہ رکھنے والوں کا ہماری جماعت میں بھی فقدان نہیں۔پس اس قسم کی اگر چند عورتیں ہی کھڑی ہو جائیں تو صرف وہی تمام رقم پوری کر سکتی ہیں۔لیکن اس کے لئے ضرورت ہے اخلاص کی اور ضرورت ہے اس تڑپ کی کہ انسان اپنا مال خدا کا مال سمجھے۔یہ مثال تو ایک نیک اور مالدار خاتون کی میں نے سنائی ہے اسی طرح ملک کے دوسرے سرے یعنی سرحد کی طرف بھی ایک خاتون نے نہایت قابل قدر ایثار دکھایا۔وہاں بھی ہماری مقامی جماعت کے امیر نے مسجد لندن کی مرمت کے لئے چندہ کی تحریک کی۔ان کی اہلیہ کے پاس صرف ایک زیور تھا اور وہ سونے کی ڈنڈیاں تھیں۔انہیں انہی دنوں میں نے ایک کام کے لئے یہاں بلایا تھا انہوں نے سنایا چلتی دفعہ میری بیوی نے مجھے کہا میرے اور میرے بچوں کے لئے حضرت صاحب سے خاص دعا کرانا۔انہوں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہیں لکھا ہے یا کسی سے میں نے آپ کی یہ روایت سنی ہے کہ خاص دعا کے لئے خاص تحریک کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ قربانی سے ہو سکتی ہے۔جب آپ خاص دعا