خطبات محمود (جلد 13) — Page 235
خطبات محمود ۲۳۵ سال ۱۹۳۱ء ایک دلیل قرار دیتے ہیں مگر اتنا نہیں سمجھتے کہ ارتقاء کے مسئلہ کو تو لوگ پیدائش عالم سے ہی مانتے چلے آئے ہیں ڈارون نے جو کام کیا وہ فقط اتنا تھا کہ اس کے بعض مخفی پہلوؤں کو روشن کر دیا۔ورنہ ڈارون سے پہلے بھی لوگ دیکھتے تھے کہ بچہ 9ماہ کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ایک بیج کو درخت بنتے ہوئے عرصہ لگتا ہے۔ہر طرف قدرت کے کاموں میں تدریجی ترقی نظر آتی ہے۔مگرا سے کوئی خدا تعالیٰ کی ہستی کے مخالف نہ سمجھتا تھا مزید برآں فرمایا کہ ڈارون نے آج آکر ADAPTABILITY کے مسئلہ یعنی ماحول کے مناسب اپنے تئیں بنالینا پیش کیا مگر اسلام نے آج سے تیرہ سو سال پیشتر اس درجہ کا نقص دور کر کے اسے مومن کا ادنیٰ درجہ قرار دیا کیونکہ صلح کا مطلب ہے بہترین طور پر اپنے تئیں کسی چیز کے مناسب حال بنانا۔پس صالح وہ ہے جو اپنے زمانہ سے پیچھے نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔اور اپنے آپ کو اس کے مطابق بنالیتا ہے۔مگر اس طور سے کہ اس کی ہر بدی سے محفوظ رہتا ہے۔دوسرا درجہ شہید کا ہے شہید کے معنی عربی زبان میں نگر ان کے ہیں۔روحانی درجہ کے علاوہ شہید کا دنیاوی درجہ بھی ہوتا ہے۔دنیا میں انسان کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ اسے علم آتا ہو۔دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو علم سکھلائے یعنی وہ معلم ہو۔اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔مؤمن نہ صرف اپنے زمانہ کے علوم اچھی طرح سے حاصل کرے بلکہ علوم میں ایسا کامل ہو جائے کہ دوسروں کو بھی سکھلا سکے۔اس کے مطابق دیکھ لو کہ مسلمان کہاں تک شہید کے مقام پر کھڑے ہیں یعنی کہاں تک وہ دینی اور دنیاوی علوم لوگوں کو سکھاتے ہیں۔یورپین اقوام کی طرف دیکھو وہ ساری دنیا میں پھیلی ہوئی دینی اور دنیوی علوم لوگوں کو سکھاتی ہیں۔دنیاوی علوم کے پھیلانے کے لئے انہوں نے ایسی ایسی جگہوں میں کالج کھولے ہیں جہاں پہلے بالکل جہالت تھی۔اور دینی علوم سکھانے کے لئے ان کے مشنری افریقہ آسٹریلیا اور دُور دراز ممالک میں جاتے ہیں حالانکہ یہ تعلیم اسلام نے دی تھی کہ اول ان لوگوں کی جماعت ہو جو روحانی اور دینی علوم حاصل کریں اور پھر ایسے لوگ ہوں جو دو سروں کو یہ علم سکھائیں۔تیرا مرتبہ صدیقیت کا ہے۔صدیق نبی کے قریب قریب جا پہنچتا ہے اور ان کا جو ہر ایک ہی ہوتا ہے۔اور ان میں دوستانہ تعلق ہوتا ہے اخوت کا نہیں۔انبیاء خد اتعالیٰ سے جو باپ کے مقام پر ہے براہ راست علوم حاصل کرتے ہیں اس لئے وہ آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔مگر صدیق کو نبی سے یہ تعلق نہیں ہوتا۔وہ کوشش اور جدوجہد سے کسی طور پر نبی سے اتحاد پیدا کرتا ہے اور