خطبات محمود (جلد 13) — Page 166
خطبات محمود 144 سال ۱۹۳۱ء کے مطابق انہیں پھانسی دیدیا اس پر اس کا کام ختم ہو گیا مگر ہم اس کے فیصلہ کو صحیح ماننے کے لئے پابند نہیں ہیں۔اس نے اپنے نقطہ نگاہ پر بنیاد رکھی۔وہ ان کی سچائی سے اس طرح واقف نہ تھی جس طرح ہم واقف ہیں۔عدالت یہ سمجھتی ہے کہ کوئی ملزم کب مانا کرتا ہے کہ میں نے یہ فعل کیا۔مگر ہم نے ان کی صداقت کو دیکھا ہے۔متواتر ایسے واقعات ہوئے کہ انہیں جھوٹ بولنے کے لئے ورغلایا گیا مگر انہوں نے ایک لمحہ کے لئے صداقت کو نہ چھوڑا اور میں ذاتی طور پر واقف ہوں کہ وہ شخص جھوٹا نہ تھا۔اور پانچ نہیں اگر پانچ ہزار گواہ بھی اس کے خلاف شہادت دیں تو ہم انہیں ہی جھوٹا سمجھیں گے کیونکہ ہمارے سامنے یہ بات ہوئی ہے کہ انہوں نے جان دیدی مگریچ کو نہ چھوڑا۔ہم عدالت پر بھی بد دیانتی کا الزام نہیں لگا سکتے۔ممکن ہے ہم میں سے اگر کوئی حج ہوتا تو شاید وہ بھی یہی فیصلہ کرتا۔گو میری یہ بھی رائے ہے کہ اگر عدالت دوسرے نقطہ نگاہ سے دیکھتی تو ضره ر چھوڑ دیتی۔خود شہادتوں سے بھی ایک ایسا نقطہ نگاہ ثابت ہو تا تھا کہ اگر عدالت چاہتی تو چھوڑ دیتی مگر حالات ایسے تھے کہ غلطی کا بھی احتمال ہے اس لئے ہم عدالت پر کوئی الزام نہیں لگاتے۔وہ مجبور تھی کہ شہادتوں کی بناء پر جو اس کی سمجھ میں آئے فیصلہ کر دے مگر ہم بھی مجبور ہیں کہ دس ہزار شہادتوں کے مقابلہ میں بھی قاضی صاحب کے بیان کو سچا سمجھیں۔عدالت نے اگر چہ دیانتداری سے فیصلہ کیا مگر غلط کیا۔واقعہ یہی ہے کہ قاضی صاحب نے قتل نہیں کیا۔ایک آدمی ضرور مرا نگر معلوم نہیں کس کے ہاتھ سے۔خود ہائیکورٹ کے ان ججوں سے جنہوں نے فیصلہ کیا اگر پوچھا جائے تو وہ بھی کہیں گے کہ ہم غلطی کر سکتے ہیں۔انہوں نے ان گواہوں پر اعتبار کیا جن کی گواہی ہمارے نزدیک قاضی صاحب کے بیان سے ہرگز معتبر نہیں تھی مگر عدالت ایسا فیصلہ کرنے مجبور تھی۔کیونکہ شہادتوں کی رو سے یہی فیصلہ ضروری تھا۔مگر ہم اپنے نقطہ نگاہ سے اس کے فیصلہ کی تائید نہیں کر سکتے۔پس ہم جب قاضی صاحب کی تعریف کرتے ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو مار دیا بلکہ اس وجہ سے کہ انہوں نے سچائی کو اختیار کیا۔آخر دم تک اس پر قائم رہے اور بالآخر جان دیدی مگر صداقت کو نہ چھوڑا۔اور یہ وہ روح ہے جو ہم چاہتے ہیں ہر احمدی کے اندر پیدا ہو۔اسی وجہ سے میں ان کے جنازہ میں شامل ہوا۔بعض لوگوں نے کہا ان کی وصیت منسوخ ہونی چاہئے۔مگر میں نے سختی سے ان کے خیال کی تردید کی کیونکہ اپنے ذاتی علم اور تجربہ کی بناء پر ہم ان کے بیان کو ہائی کورٹ کے فیصلہ سے زیادہ سچا سمجھتے ہیں۔خود ہائی کورٹ بھی یہ نہیں کہتی کہ اس کے فیصلوں کو ضرور درست سمجھا جائے۔قانون صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے۔