خطبات محمود (جلد 13) — Page 129
۱۲۹ 14 خطبات محمود ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے (فرموده ۳- اپریل ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- چونکہ نماز کے بعد مجلس شوری کا انعقاد ہو گا اس لئے ایک تو میں جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز ملا کر پڑھاؤں گا دوسرے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نہایت اختصار کے ساتھ جمعہ کا خطبہ بیان کروں گا۔میں متواتر پہلے بھی کئی دفعہ اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلا چکا ہوں اور میں سمجھتا ہوں ابھی اس بات کی ضرورت ہے کہ آئندہ اور بھی توجہ دلائی جائے اور وہ یہ ہے کہ ہمار ا سلسلہ ایک مذہبی سلسلہ ہے اور مذ ہی سلسلہ ہونے کے لحاظ سے اس کے تمام کام بجائے مادی بنیادوں پر رکھے جانے کے روحانی بنیادوں پر رکھنے گئے ہیں۔دنیا میں لوگ مشکلات کے اندازے لگا کر اپنی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کیا کرتے ہیں لیکن ہمارا اندازہ اپنی کامیابی یا ناکامی کے متعلق ان مشکلات کو مد نظر رکھ کر نہیں لگایا جا سکتا جو اس وقت ہمارے سامنے ہیں بلکہ ہماری کامیابی یا ناکامی کا اندازہ ہمارے ایمان کی زیادتی یا اس کی کمی سے لگایا جا سکتا ہے۔ایک فوج جو اپنی تعداد میں کم ہو ، سامانِ جنگ اس کے پاس تھوڑا ہو ، روپیہ بھی اس کی حکومت کے پاس کافی نہ ہو اور اس فوج کے سپاہی بھی قدو قامت کے لحاظ سے چھوٹے ہوں ان میں استقلال اور جرات کا مادہ بھی نہ ہو اس کے مقابل پر اگر ایک ایسی فوج ہو جس کے سپاہیوں میں استقلال کا مادہ پایا جاتا ہو جو فنون جنگ سے اچھی طرح واقف ہوں اور جن کی تعداد بھی زیادہ ہو۔تو اپنے مقابل پر ایسی زبردست فوج کو دیکھ کر وہ اس بات کا اندازہ کرتی ہے کہ اس کے سامان کس حد تک اسے کام دے سکتے ہیں اور وہ کہاں تک کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔لیکن خدا کی جماعتوں کے اندازے ظاہری سامانوں سے