خطبات محمود (جلد 13) — Page 130
١٣٠ سال ۱۹۳۱ء نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے نہیں لڑتے ، وہ اپنی زبانوں سے نہیں لڑتے ، وہ اپنے روپوں سے نہیں جنگ کرتے اور نہ ظاہری سامان حرب سے آمادہ پیکار ہوتے ہیں بلکہ اس چیز سے جنگ کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں ہوتی ہے اور وہ چیز ایمان ہے۔پس جب خدا کی کسی قائم کردہ جماعت کے دلوں میں ایمان مضبوطی سے گڑا ہوا ہو تو خواہ ظاہری سامان اس کے پاس کم ہوں وہ کامیاب ہو جاتی ہے۔لیکن اگر اس کا ایمان کم ہو تو چاہے ظاہری سامان کتنے ہی زیادہ ہوں وہ شکست کھا جاتی ہے۔قرآن مجید نے دو جنگوں کا ذکر کیا ہے اور ان دونوں جنگوں سے یہی سبق مومنوں کو سکھایا ہے۔ان میں سے ایک جنگ بدر ہے جس میں تعداد کے لحاظ سے مسلمان بہت تھوڑے تھے سامان کم تھا اور فنون جنگ کی مہارت کے لحاظ سے ان میں بہت کچھ کمزوریاں بھی تھیں پھر فاقہ کشیوں اور غربت کی وجہ سے مسلمانوں میں اور زیادہ کمزوری تھی۔نہ ان کے چہروں سے رونق ٹپکتی تھی اور نہ ان کے جسم موٹے تازے تھے، نہ جنگ کا سامان ان کے پاس کافی تھا مگر باوجود اس کے مقابلہ ایسے دشمن سے ہو ا جس کے پاس سامان زیادہ تھا جو فنونِ جنگ میں بڑا ماہر اور تجربہ کار تھا جس کے پاس بڑی طاقت تھی اور روپیہ بھی کافی تھا لیکن جنگ کا نتیجہ تو جو کچھ ہوا وہ بعد کی بات ہے۔ابتداء میں قریش ہی نے جب ایک شخص کو بھیجا اور کہا جاؤ اندازہ لگاؤ کہ مسلمان کتنی تعداد میں ہیں کیونکہ اگر چہ انہیں نظر آرہا تھا کہ تھوڑے سے مسلمان ان کے سامنے پڑے ہیں لیکن وہ یقین نہیں کر سکتے تھے کہ اتنے ہی لڑنے آئے ہوں کیونکہ جب ایک طرف اپنی طاقت اور جمعیت کو دیکھتے اور دوسری طرف مسلمانوں کی قلت اور بے سرو سامانی پر نظر کرتے تو سمجھ ہی نہ سکتے کہ یہ تھوڑے سے لوگ ہم سے لڑنے کے لئے آئے ہیں۔ان کا خیال تھا تھوڑے سے لشکر کے پیچھے ایک اور بہت بڑا لشکر پوشیدہ ہے وگرنہ اتنی بہادری سے یہ قلیل التعداد یہ لوگ کیونکر کھڑے وسکتے ہیں۔انہوں نے ایک شخص کو مسلمانوں کے لشکر کا اندازہ لگانے کے لئے بھیجا۔وہ شخص گیا اور اپنے گھوڑے پر چکر لگا کر واپس آکر کہنے لگا ان کے پیچھے اور تو کوئی فوج نہیں۔میں نے خود دیکھا ہے مجھے اور کوئی اسلامی لشکر نظر نہیں آیا۔لیکن اے قوم! میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ ان کا مقابلہ نہ کرنا کیونکہ میں جدھر گیا اور میں نے جسے دیکھا مجھے گھوڑے کی پیٹھوں پر آدمی نظر نہیں آئے بلکہ موتیں نظر آئیں۔یہی جنگ تھی جس میں دو چھوٹی عمر کے لڑکے جو پندرہ پندرہ سال کی عمر کے تھے ابو جہل پر حملہ آور ہوئے۔یہ اتنی چھوٹی عمر کے تھے کہ باوجود ایک ایک آدمی کی بے