خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 122

خطبات محمود ۱۲۲ سال ۱۹۳۱ء ہے کہ اگر ہم نے جو ابا ان کے بزرگوں کے پوست کندہ حالات شائع کئے تو وہ اسی طرح ہمارا خون بھی بہائیں گے جس طرح بنارس ، آگرہ ، میرزا پور اور کانپور وغیرہ میں مسلمانوں کا بہایا ہے مگر ہم سب مظالم برداشت کریں گے لیکن اپنے بزرگوں کی عزت قائم کر کے دم لیں گے۔اگر آریہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے بزرگوں کی عزت کریں اور اگرچہ پیشگوئی کے واقعات کو ہم چھپا نہیں سکتے۔مگر ان کی خاطر لیکھو کو پنڈت لیکھرام صاحب لکھا کریں تو اس کی یہی صورت ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قاتل کہنے سے باز آجا ئیں۔یا پھر اگر ان کی رگوں میں شرافت کا خون ہے تو ثابت کریں کہ آپ قاتل تھے وگرنہ اس شرارت اور خباثت سے باز آجا ئیں نہیں تو پھر ہم ان کے تمام پرانے سے لے کر نئے راہنماؤں اور لیڈروں تک سب کی دھجیاں ایسی اڑائیں گے کہ ہندوستان کا بچہ بچہ ان پر ہنسے گا۔ہم گورنمنٹ کے نوٹسوں سے قطعاً نہیں ڈرتے۔سب سے پہلے تو میرا یہ خطبہ شائع ہو گا جس میں میں نے کئی بار لیکھو کو لیکھو کہا ہے اور آئندہ بھی ہم برابر اس وقت تک کہتے جائیں گے جب تک گورنمنٹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت کو اسی طرح قائم کرنے کی طرف متوجہ نہ ہوگی جس طرح وہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی کر رہی ہے۔مباہلہ والوں کو ہی دیکھ لو اب گورنمنٹ نے ان پر مقدمہ چلایا ہے۔حالانکہ وہ پہلے دو سال تک نہایت گندے اور ناپاک حملے کرتے رہے۔گویا لاکھوں احمدیوں کی دل آزاری کے لئے گورنمنٹ کے اندر کوئی حمیت نہیں مگر لیکھو کے لئے بہت ہے۔اخبار زمیندار مجھے ہمیشہ موسیو مرزا لکھتا ہے مگر کبھی حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا مگر لیکھو لکھنا وہ گوارا نہیں کر سکتی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ آریہ شورش بپا کر دیتے ہیں اور احمدیوں نے کبھی گورنمنٹ کی پریشانی میں اضافہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔شرفاء کا قاعدہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے محسن کی قدر کرتے ہیں مگر افسوس کہ گورنمنٹ ایسا نہیں کرتی اور مجھے مزید افسوس اس وجہ سے ہے کہ پنجاب گورنمنٹ کے موجودہ ارکان سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ سب کے سب شریف لوگ ہیں مگر ان کی موجودگی میں ایسی صریح نا انصافی نہایت ہی حیرت انگیز ہے۔گورنر پنجاب کو میں جانتا ہوں وہ بہت اچھے آدمی ہیں اور ہر ایک شریف آدمی نیکی دوستی پر ناز کر سکتا ہے۔وہ انگریزی تہذیب کا نمونہ ہیں۔فائننس نمبر ایک نہایت شریف انگریز ہے۔جن کے خلاف میں پہلے بہت کچھ سنا کرتا تھا لیکن واقفیت کے بعد میں انہیں نہایت ہی شریف انسانوں میں سے سمجھتا ہوں اور ان کے اس وقت اس عہدہ پر تقرر کو ملک کی خوش قسمتی خیال کرتا ہوں ہوم