خطبات محمود (جلد 13) — Page 116
خطبات محمود ہے۔اور اب بھی دیکھ لینا کانپور میں یہی ہو گا۔ہندوؤں کے پاس روپیہ ہے ، اثر ہے ان کے وکیل ہیں ، اتحاد اور اتفاق ہے مگر مسلمانوں کا کوئی جتھا نہیں۔پھر ایسے فسادات کے موقع پر مسلمان تو اپنے بھائیوں کی مدد کرتے نہیں اور پولیس کا اپنا کوئی Interest ہوتا نہیں اس لئے مقدمات خراب اور ملزم بری ہو جاتے ہیں غرضیکہ یو پی میں مسلمانوں پر سخت مظالم ہو رہے ہیں۔اور جب یہ وباء پھیل گئی تو یہ ایک ہی صوبہ سے مخصوص نہیں رہے گی بلکہ ہر جگہ پھیل جائے گی۔پس میں احباب جماعت کو خصوصیت سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ دن کام کرنے کے ہیں۔ہم بے شک مذہبی طور پر پابند ہیں کہ قانون کی پابندی کریں مگر مجھے یقین ہے کہ ہم قانون کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی گورنمنٹ پر زور ڈال سکتے اور ظالم کا ہاتھ پکڑ سکتے ہیں۔اسلام نے جب قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے تو یقینا ہماری مشکلات کے ازالہ کے لئے بھی راستہ رکھا ہے مگر ضرورت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو عقل دی ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔اور اس وقت میں انہی صورتوں میں سے جو ہندوؤں کے مظالم سے پیدا ہو رہی ہیں ایک صورت کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں جو خصوصیت سے احمدیوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔یوں تو وہ سب مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے مگر بیوقوفی کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں یہ مرض ہے کہ اگر ایک کے ساتھ زیادتی ہو تو دوسرے خاموش ہوتے بلکہ خوش ہوتے ہیں اور مظلوم کی مدد نہیں کرتے۔ہمارا دامن خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے پاک ہے۔جب بھی کسی پر کسی قسم کا ظلم ہو ا ہم نے اس کی ہر جائز طریق سے مدد کی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔اللہ تعالی باقی مسلمانوں کو بھی سمجھ دے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔سرحد میں سنیوں نے جب شیعوں پر ظلم کیا اور ان کو وہاں سے نکال دیا تو ہندوستان کے سنی کچھ نہ بولے بلکہ ان میں سے بعض سنیوں سے سے کسی نہ کسی رنگ میں اظہار ہمدردی کرتے رہے اور اگر چہ ہم بھی سنی ہیں کیونکہ شیعوں سے خلافت کے مسئلہ میں ہمارا اتفاق نہیں مگر میں نے شیعوں سے ہمدردی کا اظہار کیا جس کا شیعوں پر اثر ہوا اور بعض دوسرے مواقع پر انہوں نے مجھے بھی ہمدردی کے خطوط لکھے۔پس چاہئے کہ غیر کے مقابل پر تمام مسلمان متحد ہو جائیں۔اگر شیعوں پر ہندو ظلم و ستم کریں تو سنی شیعوں کا ساتھ دیں اور اگر حنفیوں پر کوئی زیادتی ہو تو اہلحدیث ان کی مدد کریں اسی طرح سب غیر کے مقابل پر آپس میں متحد ہو جائیں۔اگر مسلمان زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک ایسا سمجھوتہ کرنا چاہئے کہ اگر دیگر اقوام کی طرف سے کسی اسلامی فرقہ پر ظلم ہو تو خواہ اندرونی طور پر اس سے کتنا ہی شدید اختلاف کیوں