خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 115

محمود ۱۱۵ سال ۱۹۳۱ء ہیں۔یو پی میں ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر تشدد کے واقعات برابر ہو رہے ہیں۔پہلے بنارس میں فساد ہوا۔پھر آگرہ اور میرزا پور میں اور اب کانپور میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا ہے لیکن مسلمان ہیں کہ آرام سے اپنی اپنی جگہ بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں، بنارس والوں کو ہی مار پڑی ہے ہمیں تو کسی نے کچھ نہیں کہا حالانکہ جس جگہ بھی مارا گیا ہے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی مارا گیا ہے۔اور اگر اسی طرح ہو تا گیا تو آہستہ آہستہ سب کی باری آجائے گی۔پس مسلمانوں کے زندہ رہنے کی یہی صورت ہے کہ وہ متحد ہوں۔ایک مقام پر اگر مسلمانوں پر ظلم ہو تو تمام مسلمان اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر یہ سمجھ لیں کہ یہ ان پر نہیں بلکہ ہم پر ظلم ہوا ہے اور پھر جو کچھ ان کے اختیار میں ہو اور ان کے عقائد کے مطابق درست ہو اس کے مطابق اپنے بھائیوں کی امداد کریں ہاں کسی سے اس کے عقیدہ کے خلاف امید رکھنی درست نہیں۔ہر جگہ کے مسلمان اگر اب بھی اس طرح کریں تو ان کا رعب چونکہ ابھی باقی ہے گو طاقت جاتی رہی ہے وہ تباہی سے بچ سکتے ہیں۔کیونکہ رُعب بھی ایک بہت بااثر چیز ہے۔کہتے ہیں رستم کے گھر میں کوئی چور داخل ہو گیا۔رستم اس وقت بوڑھا اور ضعیف ہو چکا تھا۔چورنے اسے نیچے گر الیا اور چھاتی پر بیٹھ کر تیار تھا کہ اس کا گلا دبا دے کہ اس نے کہا وہ رستم آگیا۔اس کا اتنا کہنا تھا کہ چور خوفزدہ ہو کر اسے چھوڑ کر بھاگ گیا کیونکہ اسے تو و ہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ میں رستم کو گرا سکتا ہوں وہ تو یہ سمجھ کر کہ اس کا کوئی معمولی نوکر ہے اس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا تھا۔تو مسلمانوں کا رعب ابھی تک باقی ہے مگر روز برو زدہ کمزور ہوتے جارہے ہیں اور اگر اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے وہ مار کھاتے رہے تو جو کچھ اپنے زمانہ میں سکھوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی بلکہ اس سے بھی زیادہ اب ہندو کریں گے۔اور جب کوئی قوم مار کھاتی جاتی ہے تو حکومت بھی اس کی کوئی مدد نہیں کرتی حکومت زبر دست کا ساتھ دیتی ہے۔دیکھ لو جہاں جہاں فسادات ہوئے مقدمات میں ہندو تو چھوٹ گئے مگر مسلمان پکڑے گئے حتی کہ گواہیاں دینے والے مسلمان بھی دھر لئے گئے۔ایک واقعہ تو ہمارے علم میں بھی ایسا ہوا۔فسادات لاہور کے سلسلہ میں پہلے تو پولیس والے پیچھے پیچھے پھرتے تھے کہ لوگ گواہیاں دیں لیکن جب ایک مسلمان نے گواہی دی تو اسے بھی ایک اور مقدمہ میں پھانس دیا اور آخر وہ دس سال کے لئے جیل میں بھیج دیا گیا۔تو گور نمنٹ بھی ایسے موقع پر زبر دست کاری ساتھ دیتی ہے۔ڈھاکہ بنارس ، آگرہ، میرزا پور وغیرہ سب جگہ یہی ہو رہا