خطبات محمود (جلد 13) — Page 114
۶۱۹۳۱ ۱۱۴ خطبات محمود غرضیکہ جو تغیرات ملک میں ہونے والے ہیں اور جو باتیں ظاہر ہو رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ حالات نہ بدلے اور ہندو لیڈروں کی دماغی حالت کی اصلاح نہ ہوئی تو ہندوستان میں ایک بھاری کشمکش شروع ہو جائے گی۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان اس کے لئے تیار ہیں ؟ قطعاً نہیں۔مسلمانوں کی حالت اس وقت بالکل بنیوں کی سی ہے۔پہلے بنیوں کی جس حالت پر ہم ہنتے تھے اب بعینہ وہی حالت مسلمانوں کی ہو رہی ہے۔بنیوں کا قاعدہ تھا کہ جب آپس میں لڑتے تو ایک دوسرے کو فحش گالیاں دیتے جو اس میں بڑھ جاتا اسے دوسرا کہتا اچھا اب گالی دو تو تمہیں بتاؤں پھر وہ دو چار گالیاں دے دیتا اور وہ کہتا اچھا اب دے کر دیکھ۔وہ پھر گالیاں دے دیتا۔اس پر کہتا اچھا اب دے کے دیکھو پنیری مارتا ہوں یا نہیں۔اس پر پنسیری اٹھا کر اسے حرکت دیتا۔وہ پھر دو چار گالیاں دے دیتا اور کہتا پنیری مار کے تو دیکھ۔اب یہ مقابلہ شروع ہو جاتا۔وہ کہتا مار پنیری اور یہ کہتا تو نکال گالی۔اس تقرار میں بہت سے ہندو جمع ہو جاتے اور سمجھتے بہت بڑا فساد ہو گیا ہے۔مگر اب مسلمانوں کا یہی حال ہے۔وہاں تو بنیا پنسیری مارتا نہیں تھا صرف ہاتھ میں پکڑ کر ہلاتاہی تھا مگر اب جہاں بھی فساد ہو مسلمان مارے جاتے ہیں اور ہر فساد کے بعد مسلمان اعلان کر دیتے ہیں تم ہمیں جانتے نہیں ہم اچھی طرح تمہاری خبر لیں گے اور تمہیں بتادیں گے کہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے مگر معلوم نہیں ان کے بتانے کا وقت کب آئے گا۔مالی طور پر وہ ہندوؤں کے غلام بن چکے ہیں، ذہنی طور پر ان کے زیر اثر ہیں ، تعلیمی اور دنیوی ترقیات کا راستہ ہندوؤں نے ان پر بند کر رکھا ہے اور تبلیغ کہ یہی ان کی قومی ترقی کا واحد ذریعہ ہے اسے بھی بند کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔سوراجیہ مل جانے کے بعد اگر مسلمانوں نے اس پر شور و شرکیا تو گاندھی جی صاف کہہ دیں گے میں نے کوئی دھوکا تو نہیں کیا میں نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا جو ”سٹیٹسمین ” میں چھپ بھی چکا ہے۔اس وقت ساری دنیا مسلمانوں کو ہی ملامت کرے گی کہ اگر تمہیں کوئی اعتراض تھا تو اس وقت کیوں نہ بولے۔لیکن مسلمان ہیں کہ ہر طرف سے مار کھاتے ہیں مگر کہے یہی جاتے ہیں کہ اب مار کر دیکھو۔آخر اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ انسان ہمیشہ کے لئے تو مار برداشت نہیں کر سکتا ایک دن خاتمہ ہو جائے گا اور آئندہ نسلوں کے لئے ان کا یہی فقرہ یاد گار رہ جائے گا کہ اب مار کر دیکھو۔لیکن کیا بعد میں آنے والے اس یاد گار کو عزت و فخر کے ساتھ دیکھیں گے نہیں بلکہ اسے خفت کے ڈر سے چھپانے کی کوشش کریں گے۔کیونکہ یہ بہادری نہیں بلکہ ذلت و رسوائی کے آثار