خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 107

خطبات محمود 1۔6 سال ۱۳۱ ۱۹۳ء والے ہوں اگر ان میں بھی انسان اپنے نفس کو قابو نہ رکھے تو کس قدر افسوس ہو گا۔میں نے بیسیوں آدمیوں کو دیکھا ہے وہ ایک دوسرے سے لڑتے ہیں اور پھر کہتے ہیں اس شخص سے تو میری صلح بالکل ناممکن ہے مگر تھوڑے ہی دنوں کے بعد ان دونوں میں پھر محبت قائم ہو جاتی ہے۔اور میں جب ان سے کہتا ہوں بتاؤ تم تو کہتے تھے میری اس سے بالکل صلح نہیں ہو سکتی پھر کس طرح صلح ہو گئی۔تو وہ یہی جواب دیتے ہیں کہ وہ تو غصے کی بات تھی اب غصہ جاتا رہا۔تو یہ جلد بازی ہوتی ہے کہ جوش کے وقت انسان اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے۔احمدیت ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ہم جوش کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھیں اور اگر ہم اسی لڑکے سے سبق حاصل کر لیں جس سے ایک دفعہ میں نے سبق سیکھا تھا تو یہ بھی اچھی بات ہے۔میں چھوٹا تھا ہماری ایک کشتی تھی بعض لڑکے ہماری عدم موجودگی میں اس کشتی کو پانی میں لے جاتے اور ایسی بری طرح استعمال کرتے کہ اسے نقصان پہنچ جاتا۔آخر اس کشتی میں ٹوٹ جانے کی وجہ سے پانی آنے لگا۔مجھے بڑا غصہ تھا میں اپنے ہمجولیوں سے کہتا رہتا کہ مجھے ایک دفعہ لڑکے پکڑ دو جو اس کشتی کو خراب کر دیتے ہیں پھر میں انہیں خوب سزا دوں گا۔خیر وہ نہ پکڑے گئے اور کشتی برابر خراب ہوتی چلی گئی اور میرا غصہ بھی بڑھتا گیا۔ایک دن انہیں ہمارے ساتھیوں میں سے کسی لڑکے نے کشتی پر سوار دیکھ لیا اور اس نے آکر مجھے اطلاع دی کہ چلیں اب موقع ہے۔میں گیا وہ لڑکے احمدی تو نہیں تھے مگر ہماری ریاست کی وجہ سے مجھ سے ڈرتے تھے۔انہوں نے جو نہی مجھے دیکھاڈر کر بھاگ گئے صرف ایک لڑکا پکڑا گیا۔مجھے غصہ تھا میں نے اسے مارنے کے لئے زور سے جو اپنا ہاتھ اٹھا یا تو بجائے اس کے کہ وہ مقابلہ کرتا اس نے جھٹ اپنا منہ میرے سامنے کر دیا اور پنجابی میں کہا "اچھا جی مارکو۔" اس کا یہ کہنا تھا کہ معا میرا ہاتھ شل ہو گیا اور میرا سارا غصہ جاتا رہا بلکہ بعد میں میں نے اپنے نفس میں ندامت محسوس کی۔تو اگر اسی طرح ہماری جماعت میں لڑنے والوں کو ، ظلم کرنے والوں اور دوسری تعدی کرنے والوں کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس طریق کو چھوڑ دیں تو کم از کم ہمارے مظلوم ہی اس طریق کو اختیار کریں۔چند ہی دنوں میں دیکھ لیں گے کہ کس طرح آپس میں صلح قائم ہو جاتی اور عداوت دور ہو جاتی ہے۔اگر کوئی گالیاں دے رہا ہے تو آگے سے یہ بھی لال پیلی آنکھیں نہ نکالے بلکہ کہے اگر تم احمدیت کی تعلیم پر عمل نہیں کرتے تو نہ سہی میں احمدیت کی تعلیم کو نہیں چھوڑ سکتا تمہاری گالیوں کے مقابل پر میں کوئی گالی دینے کے لئے تیار نہیں۔اسی طرح اگر کوئی مارنے لگے تو کہو مار لو میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ہاں یہ ضرور یاد رہے یہ طریق اپنوں کے