خطبات محمود (جلد 13) — Page 99
خطبات محمود ٩٩ سال ۱۹۳۱ء اسے نہ ڈرا سکے اور جب وہ اسے ڈرانے کے لئے عربی الفاظ کی خنجر نکالے تو یہ بھی اس کے مقابلہ میں اس سے زیادہ تیز تلوار استعمال کر سکے۔اس کے لئے نظارت تعلیم و تربیت دعوۃ و تبلیغ کی مردم شماری سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور اس کے اندر اخلاقی تعلیم اور درستگی اخلاق بھی شامل ہیں۔تیسرا قدم جو میں چاہتا ہوں کہ اٹھایا جائے یہ ہے کہ جماعت میں کوئی نکما نہ رہے اور کوئی آدمی ایسا نہ ہو جو کمائی نہ کرتا ہو۔بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کچھ کماتا نہیں وہ کھانا کہاں سے ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ کئی لوگ ایسے ہیں جو قطعا کوئی کمائی نہیں کر رہے اس لئے میں امور عامہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ایک ایسی مردم شماری کرے جس میں ہر آدمی کا نام ہو اس کی قابلیت کہ وہ کیا کام جانتا ہے اور کیا کام کرتا ہے یا بیکار ہے تو تمام تفصیلات درج ہوں۔خواہ مرد ہو یا بیوہ عورت سب کے متعلق یہ معلومات بہم پہنچائی جائیں۔خاوند والی عورت کے اخراجات کا کفیل تو اس کا خاوند ہوتا ہے مگر یوں کے گزارہ کی صورت معلوم کرنی ضروری ہے پس ہر بالغ مرد بیوہ عورت یا بن بیاہی جوان لڑکی کے متعلق یہ معلومات امور عامہ حاصل کرے۔ناکارہ لوگ قوم کی گردن میں پتھر کی حیثیت رکھتے ہیں اور قوم کی ترقی میں ایک روک ہوتے ہیں۔اگر انسان تھوڑا بہت بھی کام کرے تو وہ خود بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور قوم کی ترقی میں بھی کسی حد تک مقید ہو سکتا ہے۔اس طرح کی مردم شماری سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے ہاں کتنے پیسے جاننے والے لوگ ہیں۔بعض موزوں آدمیوں کو تعاون سے مدد دی جاسکتی ہے۔اگر کسی تاجر کی تجارت کسی وجہ سے تباہ ہو گئی ہو اور اس کے پاس سرمایہ نہ ہو تو اسے نقد روپیہ دینے سے اس کی عادت کے خراب ہونے کا احتمال ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اگر نقصان ہو گیا تو پھر بھی روپیہ مل سکتا ہے لیکن اگر اسے تعاون کے ذریعہ مدد دی جائے تو وہ سنبھل جاتا ہے۔بمبئی کے بوہرے اسی طرح کرتے ہیں اگر ان میں سے کسی کی تجارت کو نقصان پہنچ جائے تو سارے مل کر ایک چیز کی تجارت اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔مثلاوہ فیصلہ کر دیں گے کہ دیا سلائی کی ڈبیہ سوائے فلاں کے کوئی نہ بیچے اور جب کوئی گاہک ان کے پاس آئے تو اس کی دکان پر بھیج دیتے ہیں۔اور اس طرح ایک مہینہ کے اندراندروہ کافی سرمایہ جمع کر کے پھر ترقی کر سکتا ہے۔اسی طرح اگر ہماری جماعت کے کسی تاجر کا نقصان ہو جائے تو بجائے اس کے کہ سلسلہ کے روپیہ سے اسے مدد دی جائے ایسا انتظام کر دیا جائے کہ وہ خود بخود اپنے آپ کو سنبھال سکے۔اسے کہہ دیا جائے جو کچھ تمہارے پاس ہے اس سے فلاں چیز کا کاروبار شروع کر دو۔یا اگر کچھ بھی نہیں تو تمہیں ادھار سودالے دیتے ہیں اور تم