خطبات محمود (جلد 13) — Page 87
خطبات محمود ۸۷ سال ۱۹۳۱ء وو۔اور ابھی اسے پھل نہیں لگتا تو لوگ کہتے ہیں یہ لکڑی ہی ہے لیکن یکدم وہ دن آجاتا ہے جب اسے بور لگتا ہے پھر پھل بنتا ہے اور وہ پکتا ہے تو لوگ کھالیتے ہیں۔اس کے بعد وہ پھر تازہ بتازہ پھل ہمیشہ دیتا رہتا ہے اسی طرح الہی سلسلہ کا حال ہوتا ہے اور قرآن کریم میں الہی سلسلہ کو تشبیہ بھی بال دار درخت سے ہی دی گئی ہے چنانچہ فرمایا۔ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طيبة اهُ لُهَا ثَابِتٌ وَتَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کہ وہ پاکیزہ کلام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اسکی مثال پھل دار درخت کی سی ہوتی ہے۔پہلے خدا اس کی جڑیں مضبوط کرتا ہے اور شاخیں بڑھاتا ہے۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ پھل دینے لگ جاتا ہے لیکن دوسرے درختوں اور اس درخت میں ایک فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ دوسرے درخت اپنے موسم میں سال میں ایک یا دو بار پھل دیتے ہیں۔مگر یہ ایسا درخت ہوتا ہے تُؤتِي أَكَلَهَا كُلَّ حَيْنِ بِإِذْنِ رَتِهَا یہ ہر وقت ہی پھل دیتا رہتا ہے۔آخر بندہ کے لگائے ہوئے درخت میں فرق ہوتا ہی چاہئے۔بندہ جو درخت لگاتا ہے وہ ایک موسم میں پھل دیتا ہے مگر خدا کا لگایا ہوا درخت ہر وقت پھل دیتا ہے۔البتہ ابتداء میں خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا درخت بھی انسانوں کے لگائے ہوئے درختوں سے مشابہت رکھتا ہے۔مدت تک اس کے متعلق نا واقف لوگ یہی کہتے ہیں کہ معمولی لکڑی ہے۔آخر اسے بور لگتا ہے اور پھر پھل لگتا ہے۔جس طرح انسانوں کے لگائے ہوئے درختوں کی لکڑی کو پھل کے لئے تیار ہونے کے لئے چار چار پانچ پانچ چھ چھ سال لگتے ہیں۔لیکن جب پھل لگنے کا وقت آتا ہے تو اس پر چند ہفتے ہی لگتے ہیں۔اس سے زیادہ وقت صرف نہیں ہو تا پہلے بُور لگتا ہے اور چند ہی دنوں بعد گٹھلی بن جاتی ہے پھر وہ رس دار ہو جاتا ہے اور کھانے کے قابل بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی جب دنیا میں کوئی جماعت قائم کرتا ہے تو اس کا بھی یہی حال ہو تا ہے۔پہلے پہل لوگ اس کے متعلق سمجھتے ہیں یہ روئیدگی تو ہے مگر اس کا فائدہ کیا۔اس زمانہ میں سلسلہ احمدیہ کے متعلق بھی عام سوال یہی کیا جاتا رہا کہ مانا حضرت صاحب آئے اور انہوں نے ایک جماعت بنائی مگر اس کا فائدہ کیا ؟ کیا مسلمان دوسروں کے مظالم سے بچ گئے۔کیا مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو گیا۔کیا ساری دنیا میں اسلام پھیل گیا۔تو پھر اس سلسلہ کا فائدہ کیا ؟ مگر یہ ایسا ہی سوال ہے کہ جب پھل دار درخت لگایا جا رہا ہو اور وہ ابھی ابتدائی حالت میں ہو تو کوئی کہے اس میں اور کیکر کے درخت میں کیا فرق ہے۔کیکر کو بھی پھل نہیں لگتا اور اس کا بھی پھل نظر نہیں آتا۔لیکن ایسا معترض نہیں جانتا کہ لکڑی کی تیاری میں بھی وقت لگتا ہے۔اسی طرح انبیاء کی جماعتیں ہوتی ہیں۔پہلے پہل لوگ کہتے