خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 4

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء شان اس یوم سے مراد دور نبوت ہی نہیں کیونکہ نبوت کا دور تکمیل کا دور ہوتا ہے۔ اس سے چھوٹے ایام بھی ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک سال بھی ہے۔ ہر سال خدا تعالیٰ کا سلوک بندوں سے جدا اگانہ کی ہوتا ہے اور اس کی بعض نئی صفات ظاہر ماہر ہوتی ہوتی ہیں ہیں گو گو وہ وہ اپنی اپنی شان میں ایسی اعلیٰ و ارفع نہ ہوں جتنی انبیاء کے دور میں ہوتی ہیں مگر بہر حال تجدید اور زیادتی ضرور ہوتی ہے اور زیادتی چاہے ایک پیسہ کی ہو وہ زیادتی ہی ہے کیونکہ تھوڑا تھوڑا مل کر بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ کسی نے کہا ہے قطره ے شور دریا قطره معمولی معمولی منافع لینے والے تاجر بڑی دولت پیدا کر لیتے ہیں بلکہ جتنی زیادہ کسی کی تجارت وسیع ہو اتنا ہی وہ کم منافع لیتا ہے اس کے ہاتھ سے اربوں روپیہ کا مال نکلتا ہے اس لئے وہ نہایت معمولی منافع سے ہی کروڑوں روپیہ کما لیتا ہے پس اگر تھوڑی سی زیادتی بھی کسی سال میں پیدا ہو تو وہ بھی مفید ہوتی ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اللہ تعالیٰ کی ہر صفت بلکہ ہر صفت کا ہر ظہور انسان کے لئے مفید اور ضروری ہے۔ پس اس نئے سال میں اللہ تعالیٰ کی جس قسم کی صفات بھی ظاہر ہوں اور ان کا جو بھی ظہور ہو اور جتنی بھی اس کی مقدار ہو وہ پہلے ہمارے پاس نہیں اور ضرورت ہے بلکہ فرض ہے کہ کوشش کرکے ہم اسے حاصل کریں۔ شاید اس سال کی زیادتی ہمارے وزن کو زیادہ کر دے اور ہم فَهُوَ فِي عِيشَة راضية کے مصداق گروہ میں داخل ہو جائیں۔ اور شاید اسی کمی کی وجہ سے ہم وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمَّهُ هَادِيَةٌ ٣ کے مصداق لوگوں میں شامل ہو جائیں۔ تھوڑی کمی کو پورا کرنے کے لئے بھی کوشش کی ضرورت ہے خواہ وہ تھوڑی ہی ہو اور عین ممکن ہے کہ اس خیال سے کہ یہ سال کیا نئی چیز لایا ہو گا ہم وہ خفیف سی کوشش نہ کر سکیں اور نجات سے محروم رہ جائیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو تھوڑے اوزان اس سال حاصل کر لیں ان سے نہ صرف پچھلی غلطیوں کی تلافی ہو جائے بلکہ نئے سال کے ظہور کا بھی فائدہ حاصل کیا جا سکے اور صرف نجات ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو جائیں۔ رسول کریم میں ہم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص تمام عمر ایسے اعمال کرتا رہتا ہے کہ دوزخ کے قریب پہنچ جاتا ہے مگر عین دروازہ پر جاکر اسے ایسا جھٹکا لگتا ہے کہ وہ جنت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص ساری عمر ایسے اعمال کرتا ہے کہ جنت کے دروازہ پر پہنچ جاتا ہے مگر وہاں