خطبات محمود (جلد 13) — Page 83
خطبات محمود ۸۳ سال ۱۹۳۱ء جدائی سے ان کی جان نکلتی ہے۔پس اسی زمانہ سے جب سے مسلمانوں نے قرآن کے متعلق یہ خیال کر لیا کہ اس سے نئی باتیں نہیں نکالی جا سکتیں قوم کی ترقیات رک گئیں اور علوم کا سلسلہ معدوم ہو گیا۔جو نبی مسلمانوں کی یہ حالت بدل جائے ان کی باقی حالت بھی بدل جائے گی اور وہ بھی ترقیات کے میدان میں پہلے کی طرح بڑھنے شروع ہو جائیں گے۔عیسائیوں پر بھی ایک زمانہ ایسا آچکا ہے جس میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ جو ہمارے پہلے بزرگ لکھ چکے ہیں وہی کافی ہے اب ہمیں غور و فکر کی ضرورت نہیں اور وہی زمانہ تھا جس میں وہ ظاہری علوم کے لحاظ سے بھی گر گئے۔پھر جب لو تھر وغیرہ ہوئے تو انہوں نے کہا ہمیں انجیل پر غور کرنا چاہئے پہلوں کی باتوں پر ہی بیٹھے نہیں رہنا چاہئے۔اس دن سے ان میں ایجادیں شروع ہو گئیں۔ہندو اقوام میں دیکھ لوجب سے ان میں مذہبی اصلاحیں شروع ہوئی ہیں اسی وقت سے ان میں ترقی ہوئی ہے۔ایک طرف برہمو سماجی پیدا ہو گئے ایک طرف آریہ سماجی پیدا ہو گئے جنہوں نے ہندوؤں کے دماغ میں نشو و نما پیدا کرنے کی کوشش کی۔اس سے پہلے ہندوؤں کی دنیوی ترقی رکی ہوئی تھی۔مگر جب ایک طرف سے برہمو نے ان کی عقل کو تیز کیا اور ایک طرف سے آریوں نے انہیں جگانا شروع کیا تو مداان میں علوم کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ترقی کی طرف ان کا قدم اٹھنے لگا۔پس قرآن سے توجہ ہٹا لینے کی وجہ سے اور یہ خیال کرنے کی وجہ سے کہ ہمیں اپنی عقل اور دماغ سے کام لینے کی ضرورت نہیں مسلمان گر گئے۔حالانکہ رسول کریم می پیر کو جو کتاب ملی اس میں بار بار یہی دعا سکھائی گئی تھی قل رَبِّ زِدْنِي عِلماً اے خدا میرا علم بڑھا۔اے خدا میرا علم بڑھا۔اے خدا میرا علم بڑھا۔پس یہ نادانی تھی جو مسلمانوں نے کی اور جس کا برا نتیجہ بھی انہوں نے دیکھا۔میں ابھی صرف اس اصل کو بیان کرتا ہوں۔یہ امر کہ یہ نقص ہماری قوم میں ہے یا نہیں اسے میں کسی دوسرے وقت بیان کروں گا۔مگر مسلمانوں میں یہ ایک بدی ہے اور قومی بدی ہے چھ سو سال سے مسلمان تباہ ہوتے چلے آرہے ہیں۔ہر قسم کے علوم کی ترقیات مسلمانوں میں رک گئیں۔لطیفہ یہ کہ پہلے سمات سالوں میں گانے کے علم میں بھی مسلمانوں میں ترقی نظر آتی ہے۔اس علم پر بڑی بڑی کا ہیں ملتی ہیں اور آج یورپ تسلیم کر رہا ہے کہ ہمارا گانا مسلمانوں کی نقل ہے لیکن جس دن انہوں نے قرآن سے بے توجہی کی اسی دن سے اس بات میں بھی گر گئے۔حتی کہ میں سمجھتا ہوں مسلمانوں میں کامیاب چور بھی پیدا ہونے بند ہو گئے۔ذہین شخص چوری کرے گا تو اس میں بھی ہوشیاری دکھائے گا لیکن ہیو قوف چوری کرے گا تو وہ آپ بھی پھنسے گا اور دو سروں کو بھی پھنسائے گا۔مثل ا