خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 84

محمود ۸۴ سال ۱۹۳۱ء مشہور ہے۔ایک شخص نیا نیا چور بنا تھا اس نے کہیں چوری کی۔تفتیش کے لئے جب پولیس آئی تو یہ بھی ساتھ ہو گیا اور کہنے لگا میں بھی تحقیقات میں مدد دیتا ہوں۔گاؤں کے دوسرے آدمی بھی ساتھ ہو لئے چلتے چلتے کہنے لگا دیکھو یہ چوروں کے پاؤں کے نشان ہیں اور بار بار یہ کہے۔پہلے تو پولیس والوں نے کچھ توجہ نہ کی۔مگر آخر انہوں نے دل میں کہا ہمیں تو نظر نہیں آتے اسے جو نظر آرہے ہیں ضرور کوئی بات ہے۔ان کا روز مرہ کا کام ہوتا ہے وہ سمجھ گئے کہ یہ بھی چوری میں شامل ہو گاوہ اسے شاباش دیتے گئے اور کہنے لگے اچھا آگے چلو۔وہ سارا واقع بیان کرتا جائے معلوم ہوتا ہے چور پہلے یہاں ہے پھر یہاں اور اس جگہ سے وہ کو ٹھڑی میں داخل ہوا۔بڑا سراغرساں بن کر وہ سارے حالات بتا تا گیا اور پولیس والے بھی تعریفیں کرتے گئے۔آخر کہنے لگا معلوم ہو تا ہے چور اس کو ٹھڑی کے دروازے سے داخل ہوا۔اس نے اسباب اکٹھا کرنا شروع کیا اور جب لے کر چلا تو رکھئے معلوم ہوتا ہے یہاں اسے ٹھوکر لگی اور جب ٹھوکر لگی تو گھڑی اندر اور میں باہر۔بے اختیار اس کے منہ سے " میں " نکل گیا۔انہوں نے کہا " میں " تو یہاں بیٹھ جائے اور باقیوں کو پھر دیکھ لیں گے۔تو دماغی نشود نما اور قابلیت کی ہر چیز میں ضرورت ہوتی ہے۔ایسا شخص جب نیکی کی طرف جاتا ہے تو نیکی میں ترقی کر جاتا ہے۔اور اگر بدی کی طرف جاتا ہے تو بدی میں ترقی کر جاتا ہے۔مگر بیوقوف شخص دونوں پہلوؤں میں نیچے رہتا ہے۔پس مسلمانوں میں جب قابلیت مٹ گئی اور ان کی دماغی نشو و نما جاتی رہی تو سب کچھ معدوم ہو گیا۔عمدہ جرنیل بھی مسلمانوں میں نہ رہے بلکہ نیک بھی جو ہوتے رہے وہ بھی ادنی درجہ کے ہوتے رہے۔بڑے بڑے صوفیاء اور اولیاء جو ہوئے ہیں پہلی سات صدیوں میں ہی ہوئے ہیں سوائے ان کے جن کو خدا نے خود اصلاح امنت کے لئے کھڑا کیا۔جیسے مجددین وغیرہ۔پس یہ ایک عیب تھا جو مسلمانوں کو کہاں سے کہاں لے گیا۔ہمیں چاہئے کہ ہم غور کریں کیا ہم میں بھی تو یہ نقص پیدا نہیں ہو رہا اور اگر ہو گیا ہے تو اس کے ازالہ کی کوشش کریں۔وگرنہ جس نقص نے تمام مسلمانوں کو مصیبت میں ڈال دیا وہ ہمارے لئے بھی مشکلات کا موجب ہو سکتا ہے میں اس وقت صرف اس حصہ کو بیان کرتا ہوں باقی حصے انشاء اللہ آہستہ آہستہ بیان کروں گا تا جماعت میں احساس پیدا ہو اور وہ ایسی سکیم سوچے جس سے اس قسم کی امراض کو ہم دور کر سکیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو میں متعدد خطبات میں اس کو تفصیلاً بیان کروں گا۔اب میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں فردی اور قومی امراض سے نجات دے اور اُن نقائص