خطبات محمود (جلد 13) — Page 64
خطبات محمود ۶۴ سال ۱۹۳۱ء خدا نے جو اخلاق کا معیار قائم کیا ہے اس پر ہم پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ پھر بعض لوگ بجائے اس کے کہ اپنا نقص دیکھیں اور اس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں دوسروں کے نقائص دیکھتے رہتے ہیں اور ہمیشہ یہی کہتے ہیں : ہیں جماعت میں یہ نقص پیدا ہو گیا وہ نقص پیدا ہوا پیدا ہو گیا۔ مگر یاد رکھو ایسا شخص منافق ہوتا ہے۔ اگر وہ خود اخلاق کے اس مقام پر پہنچاہو تاجو اسلام کا مطمح نظر ہے تو کبھی ایسی باتیں نہ کرتا کیونکہ جو شخص اس مقام پر پہنچ جائے وہ عام نصیحت تو کر سکتا ہے مگر بے چینی اور بیدلی کبھی نہیں پھیلاتا۔ اب دیکھو میں نے جو کچھ بیان کیا ہے یہ بھی تو جماعت کو نقائص اور کمزوریوں کی طرف ہی توجہ دلائی ہے۔ مگر کیا کوئی ہے جو میرے اس خطبہ کو سن کر یہاں سے مایوس ہو کر اٹھے ۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ ہر ایک تازہ ہمت لے کر اٹھے گا۔ باوجودیکہ میں نے بھی کمزوریوں کی طرف ہی متوجہ کیا ہے ۔ منافق مایوسی پیدا کرتا ہے اس کی غرض اصلاح نہیں ہوتی بلکہ وہ تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ پس اپنے اخلاق کو اس نقطہ نگاہ سے نہ دیکھو کہ دوسروں کی کیا حالت ہے بلکہ تمہارے پیش نظر وہ مقام ہونا چاہئے جس پر خدا تعالیٰ کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اگر ایسا کرو گے تو ترقی حاصل ہوگی اور تمہارے اندر گرمی پیدا ہو گی۔ اور تم اس مقام پر ضرور پہنچ کر رہو گے ۔ جو شخص میر کے لئے گھر سے نکلے وہ تو جہاں سے چاہے واپس لوٹ سکتا ہے لیکن جس کے پیش نظر کوئی منزل ہو وہ راستہ سے نہیں پلٹا کر تا اسی طرح اگر خدا تعالی کا مقرر کردہ مقام تمہارا مقصود ہو گا تو چلتے جاؤ گے جب تک کہ اس پر نہ پہنچ جاؤ ۔ پس اخلاق کے بلند مقام کو حاصل کرنے کے لئے اپنی کوشش کو سیر کی مانند نہ رکھو بلکہ اس سفر کی مانند بناؤ جو منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ اور جب تک اس تک پہنچ نہ جاؤ دم نہ لو ۔ یہی حال تمہاری دنیا کا ہونا چاہئے ۔ اس میں بھی کسی سے پیچھے نہ کیونکہ مومن مومن کسی میدان میں پیچھے رہنا پسند نہیں کرتا۔ سید احمد صاحب سرہندی کے ایک مخلص مرید اور خلیفہ سید اسماعیل شہید دہلوی نے کہیں سے سن لیا کہ کوئی سکھ اس قدر تیرتا ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ نے دریافت کیا کیا کوئی مسلمان بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کہا گیا نہیں۔ آپ کو اس سے بہت شرم آئی۔ اور آر اور آپ نے تیرنے کی مشق شروع کی اور اس میں اتنا کمال حاصل کیا کہ آخر اس سکھ کو مقابلے کے لئے چیلنج دے دیا۔ تو مومن کسی میدان میں بھی شکست کو تسلیم کر ہی نہیں سکتا اس لئے ہمارے اندر ترقی کی وہ روح ہونی چاہئے کہ ہمار ا ز میندار دوسرے زمیندا میندار سے ہمار ا لوہار دوسرے لوہار سے ہمارا ترکھان دوسرے ترکھانوں سے ہمارا پروفیسر دوسرے پروفیسر سے اور ہمارا وکیل دوسرے وکیل سے رہو دو سروں سے