خطبات محمود (جلد 13) — Page 65
خطبات محمود ۲۵ سال بڑھ کر ہو۔جب ہم خدا تعالیٰ کی باتوں کو سمجھ اور سیکھ سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ دنیوی علوم کو دوسروں سے بہتر طور پر نہ سیکھ سکیں۔اور یہ اپنی سستی ہوگی اگر کوئی کوشش نہ کرے وگرنہ مومن کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کی نظر بہت باریک چیزوں تک پہنچتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرمایا کرتے تھے چودھویں رات کے چاند کی روشنی میں کئے شبہ ہو سکتا ہے مگر پہلی رات کا چاند ہر ایک کو نظر نہیں آیا کرتا۔جو لوگ انبیاء پر ابتداء میں ایمان لاتے ہیں وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جو پہلی رات کے چاند کو دیکھتے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہو تا ہے کہ ان کی نظر بہت تیز ہے۔پس جو شخص پہلی رات کا چاند دیکھ سکتا ہے وہ دوسری تیسری اور چوتھی کا کیوں نہ دیکھ سکے گا۔روحانی علم اور معرفت پہلی رات کا چاند ہے اور دنیوی علوم بعد کی راتوں کے۔اگر ہم خدا کی باتیں سیکھ سکتے ہیں تو دنیوی علوم کیوں نہیں سیکھ سکتے۔ضرور سیکھ سکتے ہیں مگر مشکل یہی ہے کہ آنکھیں کھول کر دیکھتے نہیں۔ہمارے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہر میدان میں دوسروں سے آگے نکل جائیں جس طرح ہم دینی علوم میں دوسروں سے آگے ہیں اسی طرح کوشش کرنی چاہئے کہ دنیوی کاموں ، دنیوی علموں اور صنعتوں میں بھی دوسروں سے آگے ہوں۔اور جتنا وقت ان کاموں میں لگائیں اس کی نسبت سے دوسروں سے آگے بڑھ جائیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان میں ہی منہمک ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ جتنا وقت ان کے لئے دیں اس کی نسبت سے دنیا سے آگے نکل جائیں۔اور یہ کوئی مشکل بات نہیں۔اللہ تعالٰی نے بندہ کے اندر بہترین قابلیتیں رکھی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے ہر فن کے آدمی عطا کئے ہوئے تھے۔جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کے ذہن ایسے تیز تھے کہ وہ جس فن میں کوشش کرتے ترقی کر جاتے۔آپ فخر سے اس کا ذکر بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں ہر فن میں کمال رکھنے والے آدمی خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں۔مثلاً حضرت خلیفہ اول کو طب میں بہت کمال حاصل تھا حتی کہ دہلی کے بڑے بڑے اطباء کے مایوس العلاج مریض آپ کے پاس آکر شفا پاتے تھے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ آپ شہرت پسند نہ تھے وگر نہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا کوئی طبیب آپ کے پایہ کا نہ تھا اور آپ کو یہ ترقی احمدیت میں آکر ہی حاصل ہوئی۔یہاں آنے سے پہلے آپ اگر چہ شاہی طبیب تھے مگر زیادہ سے زیادہ اس علاقہ کے لوگ آپ سے فائدہ حاصل کر سکتے تھے لیکن یہاں آنے کے بعد خد اتعالیٰ نے آپ کو ایسا ملکہ عطا کیا کہ ہندوستان کے ہر حصہ سے لوگ آپ کے پاس علاج کے لئے آنے لگے۔حالانکہ یہ جگہ بالکل علیحدہ پڑی تھی اور اس زمانہ میں سفر کی مشکلات بھی تھیں۔