خطبات محمود (جلد 13) — Page 664
۶۶۴ سال ۱۹۳۲ء خطبات محمود فضل ہاتھ پر ہم نے بیعت کی۔دنیا نے اگر چہ اسے نہیں دیکھا مگر خدا کہتا ہے کہ وہ میرا ہاتھ ہے۔لاکھوں کروڑوں بلکہ خبر نہیں کتنے سالوں کے بعد وہ مقدس پیدا ہوا ہے اس نعمت کی دنیا کو خبردو۔اور گلی کوچوں میں اس کی منادی کرو اور دیوانہ وار کرو۔وہ جو آج خدا تعالیٰ کے نام کی منادی کرتا ہے قیامت کے روز اس کے نام کی منادی کر دی جائے گی۔جو آج خدا کے نام کو بلند کرتا ہے ، قیامت کے دن اس کا نام بلند کیا جائے گا۔وہ جو آج لوگوں کو جنت کے لئے بلاتا ہے ، قیامت کے روز جنت اسے بخشی جائے گی۔وہ جو آج لوگوں کو تو بہ کے لئے آواز دیتا ہے ، قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے گا۔تمہارے لئے بخشش ہی بخشش ، رحمت ہی رحمت ، فضل ہی ہے برکت ہی برکت خدا نے خود آسمان کو تمہاری تائید کے لئے تیار کیا اور زمین کو تمہاری تائید کا حکم دیا۔پس جاؤ اور دنیا میں منادی کرو یہاں تک کہ تمہارے گلے بیٹھ جائیں اور دنیا کے کان تھک جائیں۔یا تو سب لوگ مان لیں یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر کر دے۔اگر وہ جنت کے لائق ہیں تو اس میں داخل ہو جائیں۔اور اگر دوزخ کا ایندھن ہیں تو اس کے اہل بن جائیں۔مگریہ و گدا کی حالت یہ درمیانی حالت ٹھیک نہیں۔کب تک زمین پر خدا تعالی کے مقدس دکھ دیئے جائیں گے۔کب تک ان کو گالیاں دی جائیں گی۔کب تک خدا تعالیٰ کی ہستی کو فریب قرار دیا جائے گا۔یہ دن ختم ہونے چاہئیں۔اور ختم کرنے کے لئے ہی اللہ تعالی نے آپ لوگوں کو کھڑا کیا ہے۔آج ہی انصار اللہ کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا ہے کہ بغیر سوز کے یہ کام نہیں ہو گا۔محض دلیل سے کام نہیں چل سکتا اس لئے جاؤ اور عشق اور محبت کے ساتھ جاؤ۔خدا تعالیٰ کے بندوں کا پیار تمہارے دلوں میں ہو۔تم اس نبی کی امت ہو جسے کونے کا پتھر قرار دیا گیا اس لئے تم خدا اور بندہ کے درمیان واسطہ ہو۔ایک طرف الوہیت اور دوسری طرف انسانیت کی دیواریں ہیں جو شق ہو رہی ہیں۔انسانیت کی دیوار الوہیت کی دیوار کے ساتھ مل کرہی زندہ رہ سکتی ہے۔تم کونے کا پتھر ہو اور اگر دونوں کے درمیان جو انشقاق ہے اس میں لگ جاؤ تو پھر یہ دونوں آپس میں مل سکتی ہیں۔ہر نعمت اور برکت جو رسول کریم میر کو دی گئی ہے اس میں تم بھی شامل ہو۔نبی کی ہر نعمت میں اس کی امت اس کی وارث ہوتی ہے۔شریک اور حصہ دار ہوتی ہے۔وہ چشمہ ہوتا ہے اور چشمہ سے ہر پیا سا پانی پیتا ہے۔بے شک پانی چشمہ کا ہے مگر پینے والے کا بھی ہے۔بے شک رسول کریم وہ کھیت ہیں جس میں اللہ تعالی کانورا گا۔نور اس لحاظ سے بے شک اس کھیت کا ہے مگر اس کا بھی ہے جو اس سے فیضان حاصل کرتا ہے۔