خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 663 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 663

خطبات محمود ۶۶۳ 78 تم خدا اور اس کے رسول کے مناد ہو (فرموده ۳۰ دسمبر ۱۹۳۲ء) سال ۹۳۲ تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- نماز جمعہ کے بعد اکثر دوست چلے جائیں گے اور باقی بھی جو ہیں وہ بھی ایک دو ون میں چلے جائیں گے۔میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ جلسہ سے یہ آخری پیغام لے کر جائیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے آپ لوگوں کو مناد مقرر کیا گیا ہے اور اگر ڈھنڈورچی اچھی طرح ڈھنڈورہ نہ دے تو وہ کسی اجرت کا مستحق نہیں ہو سکتا اس لئے آپ اسی طرح کام کریں جس طرح ایک ڈھنڈور چی کرتا ہے۔اپنے اہل کو اپنے رشتہ داروں کو اپنے محلہ والوں کو گاؤں والوں کو شہر والوں اور علاقہ والوں کو خدا تعالی کی آواز پہنچائیں اور پہنچاتے چلے جائیں کیونکہ نہیں معلوم خدا تعالی کی رحمت کے دروازے کس کے لئے کس وقت کھلیں۔ہو سکتا ہے کہ جب وہ وقت آئے تمہاری زبان خاموش ہو اور وہ ہدایت سے محروم رہ جائے۔یہ خیال مت کرو کہ تمہاری زبان میں اثر نہیں۔ہر چیز کے لئے ایک وقت ہوتا ہے جب اثر ظاہر ہوتا ہے لیکن اگر واقعی زبان میں اثر نہیں ہے تو پھر پید ا کر و۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو ہمارے زمانہ سے پہلوں کو نہیں ملا۔رسول کریم ملی والی کے بعد سے دنیا آج تک اس دن کی منتظر رہی ہے۔خدا تعالیٰ کا وہ نور جس کی نوح سے لے کر محمد میل تک ہر نبی خبر دیتا آیا ہے وہ اب ظاہر ہوا ہے۔آسمان سے خداتعالی کا ایک مقدس نازل ہوا۔دنیا نے اگر چہ اسے نازل ہوتے نہیں دیکھا لیکن خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ اسی کی طرف سے آیا۔خدا تعالی کی تائید کا ہاتھ اس کے ساتھ ہے دنیا نے اگر چہ وہ ہاتھ نہیں دیکھا لیکن خدا نے خود اس کی گواہی دی ہے۔خدا تعالیٰ کے