خطبات محمود (جلد 13) — Page 658
خطبات محمود ۲۵۸ کار اور جنگی فنون کے لحاظ سے حقیر سمجھے جاتے تھے۔ان میں مہاجرین کی تعداد کم تھی اور انصار زیادہ تھے اس طرح مسلمان سپاہیوں کا اچھا خاصہ حصہ ایسا تھا جو جنگی فنون سے ناواقف تھا۔یہ مدینہ کے وہ لوگ تھے جن کا کام زیادہ تر کھیتی باڑی تھا۔عرب کے لوگ ایسے لوگوں کو حقیر سمجھا کرتے تھے کیونکہ عرب میں عزت تلوار کی وجہ سے حاصل ہوا کرتی تھی۔چونکہ وہ تلوار کے دھنی نہ تھے اس لئے حقیر اور ذلیل سمجھے جاتے۔جب بدر کی جنگ کے موقع پر عرب کے بعض جرنیل مقابل میں نکلے تو اس وقت کے طریق کے مطابق جو یہ تھا کہ پہلے اکیلے اکیلے نبرد آزمائی کرتے اور پھر فوج فوج پر حملہ کر دیتی۔عتبہ شیبہ اور ولید تین جرنیل مکہ والوں کی طرف سے میدان میں آئے اور انہوں نے کہا هَل مِنْ مُبَارِ زِ کیا تم میں سے کوئی ہے جو ہمارا مقابلہ کرے۔انصار اس وقت یہ خیال کرتے تھے کہ رسول کریم میں ترمیم کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے کیونکہ ہم آپ کو اپنے ہاں لائے ہیں۔اس لئے پیشتر اس کے کہ مہاجرین میں سے کوئی نکلتا تین انصاری مسلمانوں میں سے نکل آئے۔جن میں سے دو پندرہ پندرہ برس کے نوجوان تھے۔کفار کے جرنیلوں نے پوچھا تم کون ہو ؟ اس وقت قاعدہ یہ ہو تا تھا اور اب بھی ہے کہ ڈاڑھی والے ڈھاٹا باندھ لیتے تھے۔انہوں نے اسی طرح کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کی شکلیں پہچانی نہ جاتی تھیں۔تاریخوں والے غلطی سے لکھتے ہیں کہ وہ نقابیں اوڑھ کر جنگ کیا کرتے تھے حالانکہ کبھی نقاب ڈال کر بھی لڑائی کی جاسکتی ہے؟ چونکہ ان کی ڈاڑھیاں ہوتی تھیں اس لئے وہ ڈھائے باندھ لیتے۔جس کی وجہ سے ان کے چہرے پوشیدہ ہو جاتے جب یہ انصاری نوجوان نکلے اور مقابلہ کرنے والوں نے پوچھا تم کون ہو؟ کیونکہ وہ پہچانتے نہ تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم انصار میں سے ہیں۔اس پر وہ بول اٹھے کہ تعجب ہے مکہ سے نکل کر ہماری قوم کے لوگ ایسے بد تہذیب ہو گئے ہیں کہ ہمارے مقابلہ میں بجائے سپاہیوں کے زمینداروں کو بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم لڑنے کے لئے تیار نہیں ہم مکہ کے سردار ہیں ہمارے ساتھ سردار ہی آکر لڑیں۔وہ لوگ رسول کریم میں کی خدمت میں واپس آگئے۔اور کہا یا رسول اللہ ! وہ تو اس بناء پر لڑائی سے انکار کر رہے ہیں۔فرمایا اچھا تمہاری بجائے اور آدمیوں کو بھیجا جاتا ہے تب رسول کریم میں ہم نے تین سپاہی بھیجے۔جن میں سے ایک حضرت علی اور ایک حضرت حمزہ تھے۔جب یہ گئے تو کفار نے پھر پوچھا کہ تم کون ہو ؟ کیونکہ ڈھائے باندھے ہوئے تھے اور شکلیں نظر نہیں آتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم علی اور حمزہ ہیں تیسرے کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔اس پر انہوں نے کہا ہاں اب تم ہمارے مد مقابل ہو ہم تم سے