خطبات محمود (جلد 13) — Page 657
خطبات محمود 404 سال ۱۹۳۲ء ہے کہ مردے پر زندے تو تصرف کر لیتے ہیں مگر زندے پر مُردے تصرف نہیں کر سکتے۔مردہ پہلوان کو گد ھیں کھا سکتی ہیں اور مُردہ شکاری کو چیلیں نوچ سکتیں ہیں مگر زندہ انسان سے یہ تمام چیزیں بھاگتی ہیں اور دور سے بندوق کی نالی دیکھ کر ہی خائف ہو جاتی ہیں۔پس دوسرے مذاہب والوں نے جو خدا پیش کیا وہ مردہ خدا ہے اور اسی لئے چیلوں اور گدھوں نے ان کے مردہ خدا کے گوشت کو کھانا شروع کر دیا۔مگر اسلام نے جس خدا کو پیش کیا ہے وہ زندہ خدا ہے اور زندہ خدا پر حملہ کرنے میں کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس چونکہ اسلام زندہ مذہب ہے اور اسلام کا خدا زندہ خدا ہے اس لئے وہ لوگوں کے حملوں اور ان کی دست برد سے محفوظ رہا اور آج تک اس کی اصلی صورت نظر آرہی ہے۔مُردہ چیز کی اصلی ہیئت بدل جاتی ہے۔مگر زندہ چیز اپنی اصلی صورت پر قائم رہتی ہے۔کیا تم گیہوں کو نہیں دیکھتے جب تک اس میں اس کی زندگی قائم رہتی ہے وہ کیسی شکل میں ہوتی ہے اور جب انسان کے پیٹ میں اس پر موت وارد ہو جاتی ہے تو کچھ حصہ خون اور کچھ فضلہ بن جاتا ہے۔پس چونکہ ایک ہی خدا اور زندہ خدا ہے اس لئے اس زندہ خدا کو اسلام نصر میں نے پیش کیا اور کہا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ فِي وہ خدا ہے جس کے متعلق ہر انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ جب تک زنده خدا پر انسان کو ایمان حاصل نہ ہو۔اس وقت تک وہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نستعين کبھی کہہ ہی نہیں سکتا۔اس میں اللہ تعالٰی نے یہ بھی بتایا ہے کہ حقیقی عبادت اور حقیقی استعانت خدا تعالی سے ہی طلب کی جاسکتی ہے۔یوں تو مختلف لوگ عبادتیں کرتے اور دیوی دیوتاؤں سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت بھی وہ لوگ عبادتیں کرتے ہیں جب بالکل مایوس ہو جائیں اور چاروں طرف انہیں ناکامی کے آثار دکھائی دیں۔اور کیا اس وقت بھی وہ دعا پر یقین رکھتے ہیں جب ان کے لئے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔اگر ہم غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ ایسے اوقات میں صرف وہی شخص دعا مانگتا ہے جو زندہ خدا پر ایمان رکھتا ہو۔چنانچہ اس وقت میں دو مصیبت کے واقعات کا ذکر کرتا ہوں جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایسی حالت میں جبکہ ہر طرف مایوسی ہی مایوسی نظر آئے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا اور اس پر تو کل کرنا انہی لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے جو خدا کی ہستی اور اس کی عظیم الشان قدرتوں پر یقین رکھتے ہیں۔بدر کی جنگ کے موقع پر صرف تین سو مسلمان سپاہی تھے اور ان میں سے بھی بہت سے ناتجربہ