خطبات محمود (جلد 13) — Page 644
خطبات محمود الدلد سال ۱۹۳۲ء سے لوم نہیں۔ اسی طرح نماز کے تارک کو ابھارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے ہر شخص جو چاہتا ہے کہ دائمی نیکی کرے اسے چاہئے کہ اس بات کو اپنے فرائض میں داخل کرلے کہ اولاد کو نماز کی تعلیم دینی ہے بلکہ بچوں کو نماز میں ساتھ لا۔ لائے اور اگر معذور ہے تو بھیجے۔ بلکہ جو معذور ہے اسے چاہئے کہ زیادہ زور اور تاکید کے ساتھ کہتا رہے تا اس کے بچے یہ نہ خیال کرلیں کہ وہ نمازوں میں ست ہے۔ اسے چاہئے کہ انہیں بار بار سمجھاتا رہے کہ میں معذور ہوں اس لئے شامل نہیں ہو سکتا۔ تم جاؤ اور نماز پڑھ کر آؤ ۔ اور پھر اس بات کی نگرانی کرے کہ وہ جاتے ہیں یا نہیں ۔ مگر بہت لوگ ہیں جو اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ اور میں نے نهایت نہایت افسوس کے ساتھ دیکھا ہے کہ یہاں قادیان میں بھی نمازوں کے وقت بعض لوگ شور مچاتے رہتے ہیں مگر انہیں کوئی نہیں سمجھاتا کہ نماز ہو رہی ہے شور نہ ڈالیں۔ پرسوں کا ہی واقعہ ہے کہ میں نماز پڑھا رہا تھا کہ ایک چھوٹی بچی کی آواز نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ کوئی دیہاتی عورت کچھ بیچ رہی تھی۔ اس لڑکی نے کہا۔ تینوں شرم نہیں آؤندی۔ حضرت صاحب نماز پڑھا رہے نے تے توں شور کرنی آں۔ یعنی تمہیں شرم نہیں آتی حضرت صاحب تو نماز پڑھا رہے ہیں اور تم شور کرتی پھرتی ہو۔ معلوم لوم ہوتا ہوتا۔ ہے اس کے والدین نے اس کے کان میں یہ بات ڈالی ہوئی تھی کہ نماز کے وقت شور کرنا نہیں چاہئے۔ وہ خود نماز میں شامل نہ تھی اور کھلتی پھرتی تھی لیکن اتنا احساس اسے ضرور تھا۔ مجھے اس بات سے اس قدر لطف آیا کہ چاہا نماز ختم کر کے اس کا پتہ کروں کے اپتہ کروں کہ وہ کون تھی۔ تو بچوں کے دل میں جو ں جو بات ڈالی جائے وہ بڑا اثر کرتی ہے۔ اور اگر انہیں مسجدوں میں جانے کا عادی بنا دیا جائے تو وہ ایسے آوارہ کبھی نہیں ہو سکتے کہ اصلاح نہ ہو سکے۔ پس میں قادیان کے دوستوں کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بچوں کو نماز کی عادت ڈالیں۔ نماز کے لئے انہیں ساتھ لے جائیں اور اگر خود معذور ہوں تو انہیں ضرور بھیج دیں۔ اور پھر نگرانی کریں کہ وہ جاتے ہیں یا نہیں ۔ پھر بچہ جب ذرا بڑا ہو جائے تو اسے تہجد کی عادت ڈالیں۔ کیونکہ میرے نزدیک تہجد کی عادت اسی عمر میں پڑ سکتی ہے۔ بعد میں بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں تہجد کی عادت ڈالیں اور ذکر کرنا سکھائیں۔ اس سے طبیعت کالا ابالی پن دور ہو کر رقت قلب پیدا ہو گی۔ دوسری چیز جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ بہت احتیاط کی ضرورت ہے وہ جھوٹ ہے۔ میں نے بہت افسوس کے ساتھ دیکھا ہے کہ جب بھی کبھی مجھے کسی مقدمہ کی تحقیقات کا موقع ملا میں نے محسوس کیا کہ بڑے لوگوں میں سے بعض تو صریح جھوٹ بولتے ہیں اور بعض جھوٹ بولنے L