خطبات محمود (جلد 13) — Page 640
خطبات محمود ٠٢ 75 حقیقی نیکی کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے (فرموده ۹- دسمبر ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ I حقیقی نیکی دنیا میں وہی ہوتی ہے جو قائم رہے اور جس کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے۔ چنانچہ رسول کریم میم فرماتے ہیں زیادہ بہتر نیکی وہ ہے جو زیادہ دیر تک قائم رہے ۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جو نیکی زیادہ دیر تک قائم رہے گی اس کا ثواب بھی متواتر لمتار ہے گا اور جو ختم ہو جائے گی اس کا ثواب بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔ پس حقیقی نیکی وہی ہے جس کے دنیا میں قائم رہنے کے سامان ہوں۔ انسان نماز پڑھتا ہے جو دل کے اندر نور پیدا ہونے والی چیز ہے اور اسے پڑھنے والا اللہ تعالی سے وابستگی اور تعلق محسوس کرتا ہے بشرطیکہ اس کے دل کی آنکھیں کھلی ہوں۔ لیکن ایک نماز کا اثر دوسری نماز کے وقت تک رہتا ہے۔ اگر وہ دوسری نماز پڑھے تو وہ نور جاری رہتا ہے وگر نہ بند ہو جاتا ہے۔ پھر دوسری نماز سے جو نور حاصل ہوتا ہے وہ تیسری تک رہتا ہے اور تیسری کا چوتھی تک۔ اسی طرح جمعہ کی عبادت ہے اس سے جو نور حاصل ہوتا ہے وہ اگلے جمعہ تک جاری رہتا ہے اگر انسان دو سرا جمعہ پڑھے تو وہ نور جاری رہتا ہے۔ اور اگر نہ پڑھے تو وہ نور ختم ہو جاتا ہے۔ عید سے بھی انسان کو ایک نور حاصل ہوتا ہے جو اگلی عید تک رہتا ہے۔ اسی طرح زکوۃ ہے۔ جن لوگوں پر زکوٰۃ فرض ہے اگر وہ اسے ادا کریں تو ان کو ایک نور ملتا ہے اور تزکیہ نفس ہوتا ہے لیکن جب دوسری بار اس کی فرضیت کا وقت آتا ہے اور ادا نہ کی گئی تو وہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ ساری چیزیں انسان کی زندگی کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔ نماز روزہ، حج، زکوة غرضیکہ تمام نیکیاں جو عبادات سے تعلق رکھتی ہیں موت کے ساتھ ختم ہو جاتی