خطبات محمود (جلد 13) — Page 630
أطبات محمود سال ۱۹۳۲ء اپس اللہ تعالی کی نعمت کی قدر کرتے ہوئے اور اس ثواب کی عظمت کو پہچانتے ہوئے ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ خدمت بجالائے۔خواہ وہ مالی ہو یا جانی یا مکانی یا عام خدمت کے رنگ میں۔پس گذشتہ طریق کے مطابق اس دفعہ بھی میں قادیان کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ مکانات دینے میں اخراجات برداشت کرنے میں اور مہمانوں کی خدمت کرنے میں جہاں تک ہو سکے مدد کریں اور سلسلہ کے کاموں کو ذاتی کاموں پر ترجیح دیتے ہوئے خدمات کریں میں نے قادیان کے لوگوں کو اس کے متعلق ہمیشہ توجہ دلائی ہے مگر افسوس ہے ابھی یہاں کے لوگوں میں وہ بیداری نہیں پیدا ہوئی جو ہونی چاہئے۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ جو شخص قادیان میں اس لئے آتا ہے کہ باہر کے حملوں اور گالیوں سے بچ جائے وہ ہرگز کسی ثواب کا مستحق نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ کا بھگوڑا ہے اور بھگوڑے کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ وہ دوزخ کا مستحق ہے۔لیکن جو شخص یہاں اس لئے آتا ہے کہ باہر خدمت کے کم مواقع ہیں اور مرکز میں اسے زیادہ موقع ملے گاوہ مہاجر ہے پس یہاں کے لوگ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ وہ مہاجر ہیں اگر کوئی شخص باہر کی تکالیف سے ڈر کر یہاں آتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اسی لئے آیا ہے اور لوگوں پر بھی یہی ظاہر کرتا ہے وہ گھلا مجرم ہے اور جو لوگوں پر تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدمت دین کے لئے آیا ہے لیکن دراصل اپنے دل میں سمجھتا ہے کہ تکالیف سے بچنے کے لئے آیا ہے وہ منافق مجرم ہے۔لیکن جس کے دل میں بھی یہی ہے اور ظاہر بھی یہی کرتا ہے تو اس کا نتیجہ ظاہر ہونا چاہئے۔یہ ممکن نہیں کہ آگ ہو اور دھواں نہ اٹھے انگارے موجود ہوں لیکن گرمی محسوس نہ ہو اور سورج کے نیچے کھڑا ہو کر کوئی شخص دھوپ اور روشنی سے محروم رہ سکے۔اگر واقعی دل میں یہ خواہش ہے کہ مرکز میں زیادہ قربانیوں کا موقع ملے تو یہ ہجرت ہے لیکن اس کا ثبوت عمل سے دو - قادیان میں آنے والوں کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔سوائے ان بھگوڑوں کے جو آرام کے لئے یہاں آتے ہیں ان کا حق ہے کہ وہ آرام کریں۔باہر لوگ انہیں مارتے تھے؟ گالیاں دیتے تھے، بائیکاٹ سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچاتے تھے ، رشتہ دار تنگ کرتے تھے اور ان مصائب سے بچنے کے لئے یہاں آنے والوں سے قربانی کی توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔جب تک کہ اللہ تعالی ان کے نفاق کے مرض کو دور نہ کر دے۔لیکن جو شخص خدمت کے زیادہ مواقع ملنے کے خیال سے آیا ہے وہ اپنے عملی نمونہ سے اپنی صداقت ثابت کرے۔اگر باہر کے لوگ ایک آنہ روپیہ چندہ دیتے ہیں تو اسے پانچ پیسے دینے چاہئیں اور موصی ہونا چاہئے۔وگرنہ یہ کیسے