خطبات محمود (جلد 13) — Page 619
4۔ خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء ہیں مگر جب تک کوئی شخص پاگل نہ ہو جائے یا دماغ میں زیادہ خرابی پیدا نہ ہو اس کیفیت سے وہ ناواقف رہتا ہے۔ لیکن خوابیں ایسی عام چیز ہیں کہ ذرا کھانا زیادہ کھالیا تو مختلف نظارے دکھائی دینے شروع ہو گئے ۔ تیز بخار ہو جائے تو اس میں بھی بعض نظارے نظر آجاتے ہیں۔ اور ہماراملک چونکہ گرم ہے اس میں سڑاند زیادہ پھیل جاتی ہے اور ملیریا وغیرہ بخاروں کے کیس زیادہ ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان بخاروں کی وجہ سے بھی لوگوں کو اکثر خوا ہیں آتی رہتی ہیں۔ اس کے مطابق جب انہیں خوابیں آتی ہیں تو وہ خیال کرتے ہیں کہ اسی طرح نبیوں کو بھی خواہیں آجایا کرتی ہوں گی۔ مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کو تو ویسے ہی خواب آتے ہیں جیسے بلی کو چھچھڑوں کے۔ لیکن انبیاء کی خواہیں ایک اور چیز ہوتی ہیں۔ مگر بہر حال استفادہ ماننے کے لئے تیار ہوتے ہیں کہ انبیاء کو خواہیں آسکتی ہیں۔ لیکن چونکہ ان کے کان آوازوں سے آشنا نہیں ہوتے اور ملائکہ کی آواز تو انہوں نے کیا سنی ہے کبھی ان کے کان بھی نہیں بجتے کیونکہ اتنے مجنون وہ ہوتے نہیں کہ انہیں اس قسم کی آوازیں سنائی دینی شروع ہو جائیں۔ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ الہام ہرگز نہیں ہو سکتا۔ ورنہ اگر انہیں بھی کوئی الهامی آواز سنائی دیتی یا جیسے بد خوابی یا بیماری کی وجہ سے اکثر خواب آتے ہیں اسی طرح اگر ایسا ہو تاکہ ذرا نزلہ ہوا اور وہ آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔ تو وہ اپنی حالت پر قیاس کر کے کہتے کہ ہاں نبیوں کو بھی الہام ہوتا ہو گا۔ غرض خوابوں کی کثرت اور الہامات کی قلت کی وجہ سے لوگوں کا خوابوں پر ن وں کا خوابوں پر تو ایمان رہا مگر الہام کے نزول پر پر سے ان کا اعتقاد جا کا اعتقاد جاتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب مسلمانوں میں روحانی بعد پیدا ہوا اور ار ران پر ظلمت اور تاریکی چھا گئی تو وہ کہنے لگ گئے کہ اب الہام ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اگر کہیں اپنے بزرگوں کی کتابوں میں لکھا ہوا دیکھتے کہ الہام ہو سکتے ہیں تو وہ اس کی تاویل کر دیتے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا تعالی کا عظیم الشان فضل ہے کہ اس نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرما کر نہ صرف الہام کا علم ہمیں عطا فرمایا بلکہ الہام سے حصہ بھی دیا حصہ دینا تو بہت بڑا فضل ہے۔ میں کہتا ہوں صرف دلوں میں الہام کی امید پیدا کر دینا بھی بڑی چیز ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے طفیل دنیا کو یہی نعمت مل جاتی کہ لوگ یقین کر لیتے کہ الہام الہی ہو سکتا ہے اور کہ یہ دروازہ روحانی ترقی کرنے والوں کے لئے ہمیشہ کھلا ہے تو یہی بڑی بات تھی۔ لوگ کہتے کہ دنیا امید پر قائم ہے آج اگر ہم یہ نعمت حاصل نہیں کر سکے تو کیا ہوا کل حاصل کر لیں گے ۔ ہم نہیں تو اور لوگ حاصل کر لیں گے اور اگر اس زمانہ کے لوگوں کو الہام الہی سے حصہ نہ بھی ملتا تب بھی لوگ کہتے کہ خدا نے دروازہ تو کھلا رکھا