خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 613

خطبات محمود ۶۱۳ سال ۱۹۳۲ء تیار کر دیا ۔ "زمیندار" " حریت " اور " اور مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ معاندین نے انہا معاندین نے انہیں بتا دیا کہ فلاں تاریخ کو احمدی تمہارے پاس آئیں گے ان کے پاس وقت چونکہ تھوڑا ہے اس لئے اسے ضائع نہ کرنا۔ ان کی آمد کی غرض ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں اور اس طرح وہ ہزار ہا گھنٹے جو احمد یوں کے اپنے آنے کی تمہید میں ضائع ہونے تھے بچ گئے۔ پھر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالٰی نے مختلف طبائع پیدا کی ہے کہ انہیں جس کام سے روکا جائے وہ کہتے ہیں اسے ضرور کریں گے۔ اور مسلمانوں میں بھی ایسی طبائع کے لاکھوں آدمی ہوں گے اس لئے مخالفوں کے طرف سے بار بار یہ تاکید ہونے پر کہ احمدیوں کی بات نہ سننا انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ضرور سنیں گے۔ پھر کئی ایسے ہوتے ہیں کہ مخالفت کا جتنا شور بلند ہو اتنی ہی زیادہ بیداری ان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اپنے علماء کی مخالفت تو نہیں کرتے مگر تماشہ دیکھنے کے شائق ضرور ہوتے ہیں۔ وہ اسے ایک تماشہ سمجھتے ہیں اور گو قریب نہیں آتے مگر دور سے جھانکتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی بالآخر قابو آجایا کرتے ہیں کیونکہ اگر تماشہ دلچسپ ہو تو دور سے جھانکنے والے آہستہ آہستہ قریب آجاتے ہیں اور کسی چیز کے خوشگوار نتائج دیکھ کر کسی نہ کسی بہانہ سے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ میں نے ۱۱-۱۲ سال کی عمر میں اس عمر کے مطابق ایک رؤیا دیکھا تھا جو یہ ہے کہ اس بازار میں جو اب احمد یہ بازار کہلاتا ہے کبڑی ہو رہی ہے۔ ایک طرف احمدی اور دوسری طرف غیر احمدی ہیں جن کے لیڈر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔ کبڑی وہ ہے جسے پنجابی میں جھل کہتے ہیں۔ ان کی طرف سے جو آدمی کبڈی دینے آتا ہے ، احمدی اسے پکڑ لیتے ہیں۔ اس کا دم ٹوٹ جاتا اور وہ بیٹھ جاتا ہے۔ یہاں تک ان کی طرف صرف مولوی محمد حسین صاحب رہ گئے۔ اور باقی سب احمدیوں نے پکڑ کر بٹھا لئے۔ کبڈی کا میدان وہ تھا جہاں ایک طرف مدرسہ احمدیہ کی دیوار اور دوسری طرف دکانیں ہیں۔ آخر مولوی محمد حسین صاحب اکیلے رہ گئے۔ تو جس طرح بچے آنکھ مچولی کھیلتے وقت دیوار کے ساتھ مونہہ رکھ کر دائیں بائیں ہاتھ رکھ دیتے ہیں اس طرح مولوی صاحب نے رکھ بھی دیئے۔ اور پہلو پر چلنا شروع کر دیا حتی کہ جب حد فاصل پر پہنچ گئے تو کہنے لگے اچھا سارے آگئے ہیں تو ہم بھی آجاتے ہیں۔ مولوی محمد حسین صاحب مخالفوں کے سردار اور رئیس تھے اور خواب میں سردار اور رئیس سے مراد بسا اوقات ان کے نائب ہوتے ہیں۔ یوں تو مولوی محمد حسین صاحب کے دل میں بھی آخر وقت میں صداقت بیٹھ گئی تھی وہ ملتے بھی رہتے تھے اور پیغام وغیرہ بھی بھیجتے رہتے تھے۔ لیکن اگر اس کی عام تاویل کرائی جائے تب ان سے مرادان