خطبات محمود (جلد 13) — Page 605
خطبات محمود ۶۰۵ سال ۱۹۳۲ء رکھتے ہیں لیکن اس غیر محدود وسعت کے باوجود کسی ایک چیز کے متعلق بھی انسان کو یقینی اور قطعی نتیجہ پر نہیں پہنچا سکے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ حقیقی راہنمائی صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہی آسکتی ہے اور اس نے یہ راہنمائی اپنے کلام قرآن مجید کے ذریعہ دنیا میں بھیج دی ہے لیکن محض دی ہے سیدھا راستہ انسان کو منزل مقصود پر نہیں پہنچا سکتا بلکہ اس کے لئے ایک اور طاقت اور محرک کی ضرورت ہے جو انسان کو اس راہ پر چلائے اور ہدایت کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب خارجی محرک اندرونی محرک سے مل جائے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ہم بعض کپڑوں کو سفید کہتے ہیں لیکن در حقیقت کپڑا سفید نہیں ہو تا بلکہ کپڑے کی ایک حالت دماغ کی ایک حالت سے مل کر سفیدی پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح کوئی چیز سرخ نہیں بلکہ کسی چیز کی ایک خاص حالت دماغ کی ایک خاص حالت سے مل کر سرخی پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح زردی ، سبزی غرض ہر رنگ کی یہی حالت ہے۔ یہی کلام الہی کا حال ہے۔ وہ راہ ہدایت تو ہوتا ہے لیکن اکیلا راہنما نہیں ہو تا بلکہ انسانی فطرت کے ساتھ مل کر راہنمائی کا کام کرتا ہے۔ گویا حقیقی راہنمائی خدا تعالیٰ کے کلام اور فطرت انسانی کے ملنے سے ہوتی ہے۔ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالی نے راہ ہدایت کے حصول کے لئے دعا سکھلائی ہے۔ نادان اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان صدیوں سے یہ دعا کر رہے ہیں ابھی تک انہیں صراط مستقیم نہیں ملا حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ انسان ہر لحہ اور اپنی زندگی کے ہر شعبہ کے لئے صراط مستقیم کا محتاج ہے۔ اور ایک سیکنڈ چھوڑ سیکنڈ کے لاکھویں کروڑدیں بلکہ ان گنت حصہ کے لئے بھی اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ یہی اصل مقام ہے جس پر مؤمن کو قائم ہونا چاہئے۔ اگر وہ اس مقام پر کھڑا ہو جائے اور ہر وقت اللہ تعالی سے صراط مستقیم مانگتا رہے تَعَلَّقَ بِاللہ کے لئے اور شَفَقَتْ عَلَی النَّاسِ کی توفیق پانے کے واسطے اور پھر خدا اس کا ہاتھ پکڑے تو خواہ وہ آگے کی راہ سے ناواقف ہی کیوں نہ ہو کامیاب ہو جائے گا۔ کیونکہ راہ کے مالک نے اسکا ہاتھ تھام لیا ہے۔ اس دنیا میں بھی دیکھ لو اگر کسی نابینا کا کوئی بینا اور واقف آدمی ہاتھ پکڑلے تو وہ منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے حالانکہ ہو سکتا ہے کہ ایک بینا راستہ سے ناواقف منزل مقصود کو نہ پاسکے اور راستہ ہی میں بھٹکتا پھرے۔ پس اصل مقام یہی ہے کہ انسان ہر وقت ہر لمحہ اور ہر گھڑی صراط مستقیم کا طالب رہے۔ کتنے نادان ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اب ہمیں ہدایت کی ضرورت نہیں۔ ایک دفعہ جو مل چکی ہے وہی کافی ہے۔ حالانکہ انسان الہی ہدایت سے ایک لمحہ کے لئے بھی مستغنی نہیں ہو سکتا۔ ہاں الہی ہدایت 1