خطبات محمود (جلد 13) — Page 604
خطبات محمود ۶۰۴ سال ۱۹۳۲ء بڑی بات ہے شَفَقَتْ عَلَى النَّاسِ کو ہی لے لو۔اور اسی کی تشریح نے بیٹھ جاؤ تو کبھی ختم نہ ہو گی۔اول تو شفقت کی کوئی قطعی تعریف ہی بڑی مشکل ہے۔مثال کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں دیکھو افریقہ کے باشندے اپنے بچوں کے چہروں کو گودتے ہیں اور اس طرح انہیں خوبصورت بناتے ہیں۔اس وقت ایشیاء یا یورپ کا کوئی آدمی دیکھے تو سمجھتا ہے کہ یہ ماں باپ کس قدر ظالم اور غیر شفیق ہیں۔انہیں اپنے بچہ پر کوئی رحم نہیں آتا اور نہ صرف یہ کہ اسے تکلیف میں ڈال رہے ہیں بلکہ اسے بد شکل اور کریمہ منظر بھی بنا رہے ہیں۔اب یہ ایک ہی کام ہے لیکن ایک کے نزدیک شفقت ہے اور دوسرے کے نزدیک مظلم۔یا اسی طرح مسلمان اپنے بچوں کو گوشت کھلاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑا اچھا کام کیا کہ انہیں اعلیٰ اور عمدہ غذادی۔لیکن یہ شفقت اور یہ مہربانی ایک ہندو کے نزدیک شفقت اور مہربانی نہیں بلکہ پاپ گناہ اور ظلم ہے۔غرض شفقت کی کوئی قطعی تعریف ہی نہیں۔ممکن ہے بعض باتوں میں دنیا کا اتفاق ہو بھی جائے۔مثلا کسی کو مار ڈالنے یا قتل کر دینے کو سب ظلم اور شفقت کے منافی قرار دیں گے لیکن پھر اس کے مواقع پر اختلاف ہو جائے گا۔پچھلے زمانہ میں ٹھگوں کا ایک گروہ ہو تا تھا۔ہمارے زمانہ میں تو ٹھنگ کا اور مفہوم ہے لیکن پہلے یہ ایک مذہبی فرقہ ہو تا تھا جس کا عقیدہ یہ تھا کہ جو انسان بھی ملے اسے قتل کر دینا چاہئے اور وہ اپنے پاس رہتی یا کوئی اور ایسی چیز رکھتے تھے جس سے انسانی جان لی جا سکے اور اپنی تائید میں وہ یہ دلیل پیش کیا کرتے تھے کہ دنیا تکلیفوں، دکھوں اور مصیبتوں کی جگہ ہے اور دنیا میں کوئی بھی سکھی نہیں۔جب یہ دنیا دار المحن ہے تو کسی کو اس سے نجات دینا یقینا ثواب کا کام ہوا۔وہ کہتے تھے چونکہ عام طور پر انسان بزدل ہے اس لئے وہ خود کشی کر کے دنیا سے نجات پانے سے ڈرتا ہے اس لئے ہم اسے قتل کر کے دنیا کی مصیبتوں سے آرام میں پہنچادیتے ہیں اور اس طرح ہمارا یہ کام ثواب کا کام ہے۔جب لوگ ان سے پوچھتے کہ تم دوسروں کو تو مارتے ہو خود کیوں نہیں خود کشی کر لیتے تو کہتے اگر ہم بھی خود کشی کرلیں تو لوگوں کو دکھوں سے نکالنے والا کون رہے۔غرض قتل نفس پر اتفاق ہوا تھا لیکن پھر حق اور غیر حق کی بحث ہو گئی اور اس بات کا فیصلہ کہ فلاں قتل حق ہے یا نا حق خود بڑی تفصیلات کو چاہتا ہے۔یہ تو شفقت عَلَى خَلْقِ اللہ کی تفصیل کی کیفیت تھی۔باقی رہا تعلق باللہ تو دنیا کے تمام مذاہب جن میں سے ہر ایک کا دعوئی ہے کہ میں تعلق باللہ کراتا ہوں۔ان کی فہرست ہی پڑھنے لگو تو شاید ختم نہ ہو۔غرض انسانی اعمال اور ان کے متعلقات غیر محدود وسعت