خطبات محمود (جلد 13) — Page 600
خطبات محمود ۶۰۰ سال ۱۹۳۲ء بیماری یا تکلیف ہو گی اس کے لئے دوزخ مال کا نقصان ہو گا تو اس کے لئے دوزخ غرض ہر دنیاوی نقصان دوزخ کا سامان ہو گا۔ لیکن جو شخص خدا کے لئے آ۔ خدا کے لئے آپ ان چیزوں کی قربانی کے لئے تیار ہو گا اس کے لئے کوئی تکلیف نہیں۔ اس کا مال ضائع ہو گا تو وہ یہی کہے گا خدا نے دیا تھا اسی نے لے لیا۔ ورنہ میں تو خود اسے دینے کے لئے تیار تھا۔ لڑکی یا لڑکا فوت ہو گا کسی رشتہ دار کو تکلیف ہوگی۔ غرض ہر دنیاوی نقصان پر اس کے منہ سے یہی نکلے گا۔ اور وہ ہر آن جنت میں ہو گا۔ حضرت مسیح موعود عليه الصلاة والسلام کو مبارک احمد سے بہت محبت تھی۔ جب مبارک احمد بیمار ہوا تو دوائی وغیرہ میں ہی پلایا کرتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آخری وقت میں حضرت مولوی صاحب جو بڑے حوصلہ اور قومی دل کے انسان تھے اور سخت سے سخت گھبراہٹ کے موقعوں پر بھی گھبرایا نہیں کرتے تھے وہ بھی گھبرا گئے ۔ انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھا تو چھوٹ چکی تھی۔ انہوں نے کا نپتی ہوئی آواز میں کہا حضور کستوری لائیے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام چابی لے کر قتل کھول ہی رہے تھے کہ مبارک فوت ہو گیا یہ دیکھ کر حضرت مولوی صاحب یکدم گر گئے ۔ میں نے دیکھا وہ سخت گھبراہٹ میں تھے۔ انہیں زیادہ خیال یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبارک احمد سے بہت محبت تھی۔ اس کی وفات کی وجہ سے انہیں شدید صدمہ ہوگا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے جب یہ سنا کہ مبارک فوت ہو گیا ہے تو آپ کاغذ قلم دوات لے کر بیٹھ گئے! چند خط لکھ کر دیئے کہ ڈاک میں ڈال دو ۔ ان خطوں میں مضمون یہ تھا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا۔ رہنا اور اللہ تعالی کی دین تھی اس نے۔ نے لے لی۔ رنج و فکر کی کوئی بات نہیں۔ اللہ کی رضا پر راضی چاہئے ۔ غرض دوسروں کو صبر کی تلقین کے خطوط اس وقت روانہ کئے اور یہاں کے لوگوں کو فرمایا بے شک مبارک احمد سے ہمیں بہت محبت تھی لیکن اس لئے ہمیں محبت تھی کہ ہمیں خیال تھا بعض الہامات اس کی ذات سے پورے ہونے والے ہیں۔ غرض ایسے لوگوں کو کوئی تکلیف جسے دنیا تکلیف کہتی ہے کبھی ہوتی ہی نہیں۔ پس دنیاوی نقصانات پر غمگین ہونا دنیا کی تکالیف پر دلگیر اور اندوہ گیں ہو نا دنیا کی دوزخ ہے۔ لیکن خدا کی رضا پر راضی رہنا دنیا کی تکالیف پر صبر کرنا خدا کی راہ میں جان و مال غرض کہ ہر چیز کی برضاء و رغبت قربانی کرنا دنیا کی جنت ہے۔ یہ ایسی جنت ہے جو ہر شخص کے قبضہ میں ہے جو چاہے لے لے اور جو چاہے اسے رد کر کے اس دنیا اور اگلے جہان کی جنت سے محروم ہو جائے ۔ کیونکہ وہاں کی جنت کی ابتداء میں سے ہوتی ہے اور وہ جنت یہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔ اگلے جہان میں اسے وہی شخص حاصل کر سکے گا جو اسی دنیا میں