خطبات محمود (جلد 13) — Page 592
خطبات محمود ۵۹۲ سال ۱۹۳۲ء قربانیاں بنا لیا کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک آدمی نے کسی شخص کی دعوت کی۔ اور اپنی طاقت کے مطابق اس کی تواضع میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ جب مہمان جانے لگا تو اس سے معذرت کرنے لگا کہ میری بیوی بیمار تھی۔ کچھ اور بھی مجبوریاں بتلائیں اس لئے آپ کی پوری طرح خدم خدمت نہیں کر سکا امید ہے آپ درگزر فرمائیں گے۔ یہ سن کر مہمان کہنے لگا میں جانتا ہوں تم کس غرض سے کہہ رہے ہو تمہار انشاء یہ ہے کہ میں تمہاری تعریف کروں اور تمہارا احسان مانوں لیکن تم مجھ سے یہ امید نہ رکھو بلکہ تمہیں میرا احسان ماننا چاہئے۔ میزبان نے کہا نہیں میرا ہر گز یہ منشاء نہیں۔ میں واقعی شرمسار ہوں کہ پوری طرح آپ کی خدمت نہیں کر سکا۔ اگر آپ کا مجھ پر کوئی احسان ہے تو وہ بھی فرمادیجئے۔ میں اس کا بھی شکریہ ادا کردوں۔ اس پر مہمان نے کہا تم خواہ کچھ کہو، میں تمہارے دل کی منشاء کی تمہارے دل کی منشاء کو خوب جانتا ہوں لیکن یاد رکھو تم نے تو مجھے کھانا ہی کھلایا ہے۔ میرا تم پر بہت بڑا احسان ہے۔ تم ذرا اپنے کمرہ کو دیکھو کئی ہزار کا سامان اس میں پڑا ہے۔ جب تم میرے لئے کھانا لینے اندر گئے تھے میں چاہتا تو دیا سلائی دکھا کر یہ سب کچھ جلا دیتا۔ تم ہی بتلاؤ ایک پیسہ کا بھی سامان باقی رہ جاتا۔ مگر میں نے ایسا نہیں کیا کیا میرا یہ احسان کم ہے۔ یہ سن کر میزبان نے کہا واقعی آپ نے : آپ نے بہت بڑا احسان کیا میں اس کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دیکھ لو ایک انسان ایسا بھی ہوتا ہے کہ بجائے محسن کا احسان پیچاننے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے یہ سمجھتا ہے کہ میں احسان کر رہا ہوں۔ خیر یہ تو ایک قصہ ہے مگر اس قسم کی مثال اسلامی تاریخ سے بھی ملتی ہے۔ مکہ والوں کی انتہائی اذیتیں برداشت کرنے کے بعد جب آنحضرت میم مدینہ تشریف لے لے آئے اور مدینہ والوں نے آپ کو جگہ دی تو اس وجہ ی وجہ سے بعض منافق آنحضرت میں ہم پر اپنا احسان جتاتے اور کہتے کہ دیکھو جب تمہارے وطن والوں نے تم کو نکال دیا تو ہم نے اپنے پاس جگہ دی۔ حتی کہ ایک موقع پر ناراض ہو کر رئیس المنافقین نے یہاں تک کہہ دیا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِيُخْرِ جَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ سے اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو وہاں کا سب سے معزز آدمی (عبد اللہ بن ابی بن سلول) وہاں کے سب سے ذلیل فرد ( آنحضرت میں کی طرف اشارہ تھا) کو وہاں سے نکال دے گا۔ حالانکہ جگہ دینے والے یہ منافق نہیں تھے بلکہ اور لوگ تھے اور وہ ایسی باتوں سے بہت بالا تھے بلکہ جب مکہ فتح ہو گیا اور دشمن تباہ و برباد ہو گئے تو بعض لوگوں کو طبعا یہ خیال پیدا ہوا کہ نکہ اب اپنے قبضہ میں آچکا ہے ، کہیں آنحضرت مسلم اپنے اصل وطن واپس نہ تشریف لے جائیں۔ اس خیال سے ہی انکی کمریں علی آدم