خطبات محمود (جلد 13) — Page 591
خطبات محمود ۵۹۱ سال ۱۹۳۲ آپ تکلیف کا سامان تیار کر لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مدرسہ کی انجمن کی طرف سے حضرت خلیفہ اول غالبا صد ر تھے۔کوئی کام ایک دوست کے سپرد کیا گیا۔غالبا کوئی حساب کا ہی معاملہ تھا۔بعد میں جب ان سے حساب طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ آمدو خرچ کا حساب دیجئے تو وہ سخت ناراض ہوئے اور کہنے لگے میں مسلمان ہوں ، اتنی بدظنی مجھ پر کیوں کی جاتی ہے۔آخر میں کچھ کھا تو نہیں گیا کہ مجھ سے حساب طلب کیا جاتا ہے۔حالانکہ حساب میں کوئی خلاف قاعدہ اور خلاف قانون بات نہیں بلکہ ایسی چیز ہے جس کے بغیر دنیا کا کام نہیں چل سکتا۔حتی کہ قرآن مجید میں تو آتا ہے کہ انبیاء سے بھی حساب لیا جائے گا۔لیکن انہوں نے اپنے ذہن میں خیال کر لیا کہ حساب طلب کرنا بہت بُری بات ہے اور جو مجھ سے حساب طلب کیا گیا ہے ، ضرور اس کی وجہ یہی ہے کہ مجھ پر بد ظنی کی گئی ہے اس خیال کی وجہ سے انہیں تکلیف پہنچی حالا نکہ یہ کوئی تکلیف دہ بات نہ تھی لیکن ایک ایسا شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ حساب لینا کوئی بُری بات نہیں بلکہ ضروری چیز ہے اس سے جب حساب طلب کیا جائے گا اسے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔اور نہایت خوشی سے وہ حساب دیدے گا بلکہ اگر اس سے حساب نہیں لیا جائے گا تو اسے تکلیف ہو گی۔غرض دیکھ لو ایک ہی بات ہے مگر ایک شخص کے لئے حساب کا دینا دوزخ ہے ، دوسرے کے لئے حساب کا نہ دینا دو زخ۔اسے دوزخ ہی کہا جائے گا کہ دکھ اٹھا رہے ہیں، تکلیف محسوس کر رہے ہیں، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔پھر یہی چیز ہم آئے دن دوستوں کی مجالس میں دیکھ سکتے ہیں۔بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ دو دوست ایک بات سنتے ہیں۔ان میں سے ایک جب دوسرے موقع پر اسے بیان کرتا ہے تو کسی مقام پر دوسرا یہ کہہ دیتا ہے کہ میرا تو یہ خیال نہیں ، میں نے تو یہ نہیں سمجھا۔اس پر اگر دو سرا یہ خیال کرے کہ اس نے مجھے جھٹلایا ہے اور مجھے کذاب سمجھا ہے اور ناراض ہو۔یا دل ہی دل میں گڑھے تو یہ اس کی حماقت ہوگی کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ دوسرے کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔یا واقعی اس نے گفتگو کا وہ حصہ بنا ہی نہ ہو۔بیسیوں تو جیہیں ہو سکتی ہیں لیکن اگر کوئی سمجھے کہ مجھے جھوٹا قرار دیا گیا ہے تو گویا وہ خود اپنے لئے دوزخ تیار کرتا ہے۔غرض انسان کے لئے جنت و دوزخ پیدا کر نا خود اس کے اختیار میں ہوتا ہے۔چاہے تو وہ اپنے لئے دوزخ پیدا کرے اور چاہے تو جنت جنت کے حاصل کرنے کے لئے قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اور یہ قربانیاں کرنے والے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بہتیرے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قربانیاں تو کرتے نہیں البتہ