خطبات محمود (جلد 13) — Page 590
خطبات محمود ۵۹۰ سال ۱۹۳۲ء حالت ہے۔ ایک کے گا اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے، بالکل آرام سے ہوں کوئی تکلیف نہیں ، بڑے سکھ اور چین سے دن گزر رہے ہیں اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ لیکن دو سرے کا جواب اس سے بالکل مختلف ہو گا۔ وہ کہے گا حال کیا پوچھ رہے ہو - مر رہا ہوں کوئی سکھ نہیں ، مصیبت ہی مصیبت ہے ، کوئی دن چین سے نہیں کٹتا، دوزخ میں پڑا ہوں، ایک دن بھی تو آرام کا نہیں ملتا۔ بتلاؤ یہ فرق کہاں سے آیا؟ کپڑوں سے چھت ۔ چھت سے مکان کی دیواروں سے آب و ہوا سے خوراک سے زمین و آسمان سے سورج یا چاند ند ۔ سے روپیہ پیسہ سے نہیں ان ان چیزوں چیزوں ۔ سے فرق نہیں پڑ سکتا کیونکہ دونوں کو یہ سب ایک جیسی حاصل ہیں۔ جس قسم کا مکان میں پہلا رہتا ہے ایسا ہی دوسرے کا مکان ہے جس ہوا میں پہلا سانس لیتا ہے اس میں دوسرا بھی اپنے دن گزار رہا ہے۔ جو پہلا ملا خوراک کھاتا ہے وہی دوسرے کی بھی ہے ۔ جس زمین پر پہلا چلتا پھرتا ہے اسی پر دو سرے کے قدم پڑاتے ہیں۔ جو سورج چاند پہلے کے لئے ہے وہی دوسرے کو ملا ہوا ہے۔ جو پہلے کی آمد ہے وہی دوسرے کی ہے۔ غرض جو جو آسائشیں پہلے کو میسر ہیں دوسرا بھی انہی سے متمتع ہو رہا ہے۔ ان چیزوں کی وجہ سے تو دونوں کے جوابات میں فرق نہیں ہو سکتا۔ آخر یہ فرق کہاں سے پیدا ہوا۔ اس کے متعلق یاد رکھو، یاد رکھو، یہ احساسات کا فرق دل سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک نوعیت کے حالات میں رہ کر ایک کا دل آرام و راحت محسوس کر رہا ہوتا ہے لیکن اسی قسم کے حالات میں دو سرا مصیبت و تکلیف کا احساس کر رہا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایک بیمار اور تندرست میں فرق ہے۔ ایک بیمار خواہ کتنی ہی مزیدار ہی مزیدار چیز چکھے اسے خراب پھیکی بد مزہ کسیلی اور بد ذائقہ ہی قرار دے گا۔ وہی چیز ایک دوسرے کے نزدیک نہایت اعلیٰ اور مزیدار ہو گی۔ اس وقت حقیقت معلوم کرنے کے لئے یہی کریں گے کہ اس چیز کو کئی شخصوں کے سامنے رکھیں گے ۔ اگر ان میں سے سب یا اکثر یہ کہہ دیں یہ اچھی اور ذائقہ دار ہے تو اسے اچھا سمجھا جائے گا۔ اور بد ذائقہ کہنے والے کو ہم بیمار کہیں گے ۔ غرض یہ ظاہری مزے کا فرق بھی انسان کے اندرہی سے پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں جو لوگ تکلیف محسوس کرتے ہیں اس کا بسا اوقات یہ سبب ہوتا ہے کہ وہ پیش آنے والے واقعات کے متعلق اپنے دل میں ایک معیار قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن جب اس معیار کے مطابق اپنے وقت پر معاملہ وقوع پذیر نہیں ہو تا تو وہ تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ مثلاً کسی شخص کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ اسے میرے ساتھ ایسا سلوک کرنا چاہئے لیکن جب ان کی منشاء کے مطابق سلوک نہیں ہو گا تو ناراضگی پیدا ہو گی اور تکلیف اٹھانی پڑے گی۔ اس طرح لوگ اپنے لئے