خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 587

سال ۲ ۱۹۳۲ء ۵۸۷ 68 خطبات محمود اسی دنیا میں جنت حاصل کرنے کی کوشش کرو فرموده ۲۳- ستمبر ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔انسان کے لئے اللہ تعالٰی نے جو حقیقی مقام تجویز کیا ہے وہ جنت کا مقام ہے۔لیکن عام طور پر اکثر لوگ جنت کی حقیقت سے ناواقف اور جاہل ہوتے ہیں۔بلکہ اس وقت تو اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ جنت مرنے کے بعد حاصل ہونے والی کوئی چیز ہے۔گو اسلام نے اس کی پر زور تردید کی ہے تاہم مسلمانوں میں سے بھی بعض اس عقیدہ کے ہو گئے ہیں کہ جنت مرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان پر ماحول کا اثر ہوتا ہے اور مسلمانوں کے چاروں طرف چونکہ اس خیال کے لوگ تھے اس لئے ان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو گئے جن کا خیال ہے کہ جنت کا اس دنیا کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں مرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے حالانکہ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لئے جو جنت اور دوزخ تجویز کی گئی ہے وہ اسے اسی دنیا میں ملنی شروع ہو جاتی ہے اور دوسرے جہان میں جنت وہی حاصل کر سکیں گے جو اسے یہاں لے چکے ہوں گے۔اسی طرح جنہیں اس دنیا میں دوزخ نصیب ہوتی ہے وہ اگلے جہاں میں بھی دوزخ ہی میں جائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے منْ كَانَ فِي هُدَةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعلى جنت اور دوزخ کے متعلق اس دنیا اور اگلے جہان کے تعلق نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ اکثر فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں اور کئی رنگ میں نقصان اٹھا لیتے ہیں۔جنت یا دوزخ ان کے بالکل قریب ہوتی ہے لیکن وہ اسے دیکھ نہیں رہے ہوتے۔ان کی مثال بالکل اس اندھے کی سی ہوتی ہے جس کے سامنے روپیہ پڑا ہو لیکن وہ اسے نہ 38